1st.Khulasa_e_Taraweeh
اللہ رب العزت نے جس کتاب کو انسانوں کی ہدایت کے لئے اور نصیحت بناکر نازل فرمایاہے اس کو اللہ نے سمجھنے کے لئے آسان بھی بنایا ہے

1st.Khulasa_e_Taraweeh

قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے۔ یہ کتاب سارے انسانوں کے لئے اللہ کی آخری کتاب ہدایت ہے۔ اس کتاب حکیم کا تعارف کراتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَان(البقرۃ۵۸۱)
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا۔یہ کتاب تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور ایسی روشن نشانیوں کی حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی او رحق وباطل کے درمیان دوٹوک فیصلہ کردیتی ہیں۔
قرآن حکیم کی اس حقیقت کو اللہ تبارک وتعالی نے اپنے پاک کلام میں متعددمقامات پر مختلف انداز اورمختلف پیرایہ میں بیان فرمایاہے۔قرآن حکیم کوسارے جہان والوں کے لئے ہدایت بتاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتاہے:
ہَ ذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَہُدًی وَمَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْن (آل عمران ۸۳۱)
یہ سارے لوگوں کے لئے ایک بیان اور وضاحت ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے۔
دوسرے مقام پر فرمایا:
ہَ ذَا بَلاَغٌ لِّلنَّاسِ وَلِیُنذَرُواْ بِہِ وَلِیَعْلَمُواْ أَنَّمَا ہُوَ إِلَ ہٌ وَاحِدٌ وَلِیَذَّکَّرَ أُوْلُواْ الأَلْبَابِ (ابراہیم ۲۵)
یہ تمام لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے اور (اس لئے دیاجارہاہے کہ)تاکہ اس کے ذریعہ ان کو خبردار کیاجائے اورسارے لوگ یہ جان لیں کہ وہ تنہا الہ (حقیقی معبود)ہے اور عقل رکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔
قرآن فہمی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺکی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری اللہ کے پیغام یعنی قرآن کی توضیح اور تشریح بھی ہے۔اس جانب اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
ِ وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ (النحل۴۴)
یعنی ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل کیا تا کہ آپ اس کتاب کو لوگوں کے سامنے اچھی طرح بیان کردیں۔
اللہ رب العزت نے جس کتاب کو انسانوں کی ہدایت کے لئے اور نصیحت بناکر نازل فرمایاہے اس کو اللہ نے سمجھنے کے لئے آسان بھی بنایا ہے۔تاکہ جو لوگ اس کو سمجھنا چاہیں اور اس پر غور تدبر کرناچاہیں ان کو بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اوروہ اس سے خاطرخواہ فائدہ اٹھاسکیں۔ اس سلسلہ میں سورۃالقمر میں اللہ تعالی نے بڑے دلنشین انداز میں انسانوں کو دعوت دی ہے اور ایک ہی آیت کو بار بار دہراکراس جانب توجہ دلائی گئی ہے ارشادہے:
وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ (القمر۷۱,۲۲,۲۳,۰۴)
بے شک ہم نے قرآن کو آسان کردیاہے نصیحت حاصل کرنے کے لئے۔ کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
رمضان چوں کہ نزول قرآن کا مہینہ ہے اور رمضان کی ساری فضیلتیں اور برکتیں نزول قرآن ہی سے وابستہ ہیں, اس لئے اس مبارک مہینہ کو بطور خاص قرآن کے پیغام کو سمجھنے کے لئے خاص کرناچاہیے۔یوں تو مسلمان عموماً سال بھر ہی کچھ نہ کچھ قرآن حکیم کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور رمضان میں اس میں کسی قدر اضافہ بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن ہر صورت میں معاملہ صرف تلاوت تک ہی محدود رہتاہے۔قیام لیل یاتراویح کی نمازوں میں بھی قرآن سننے اور سنانے کی جوروایت رہ گئی ہے وہ ایک رسم کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ہمارے اندر سے یہ احساس بھی ختم ہوچکاہے کہ ہمیں اللہ کا پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اور یہ پہلو بہت افسوس ناک ہے۔
قرآن کے تعلق سے ایک بہت بڑی غلط فہمی ہمارے ہاں یہ پائی جاتی ہے کہ ہم اس کتاب ہدایت کو صرف ثواب کی کتاب سمجھنے لگ گئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی تلاوت باعث اجروثواب ہے اور رسول اللہﷺ نے واضح طور پر اس کے اجر کی بشارت دی ہے۔ لیکن یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے کہ قرآن کا اصل مقصد ہدایت ہے۔اور ہدایت کا حصول اس کے فہم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
عموماً ہمارے ہاں ماہ رمضان کے مخصوص حفاظ اور ائمہ کرام پہلے سے ہی پابندبنا دئے جاتے ہیں کہ انہیں کتنے منٹ میں تراویح ختم کرنی ہے اور قرآن کتنے دنوں میں ختم کرناہے۔ اسی وجہ سے مجبوراً ان کی تلاوت کی رفتارکافی تیز ہوجاتی ہے۔اور بسا اوقات قرآن کے الفاظ تک کا سمجھنا مشکل ہوجاتاہے۔قرآن کے معانی کے سمجھنے کی باری تو کبھی آتی ہی نہیں۔ جب کہ ہمارے اوپر قرآن کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ ہم اس پیغام ربانی کو پوری سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اورپڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ڈھالیں۔قرآن کو سمجھے بغیر ہم صحیح معنوں میں ہدایت اور اللہ کی معرفت حاصل نہیں کرسکتے۔اور یہ ہمارا سب سے بڑا خسارہ ہوگا۔
رسول اللہﷺنے اسی اہمیت کی بنیاد پر فرمایاتھا:
خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ(صحیح بخاری, کتاب فضائل القرآن) یعنی تم میں سب سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔یاد رکھیے! قرآن سیکھنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم صرف اس کو پڑھنا سیکھ لیں یا اس کی تجوید اور قواعدکے ساتھ اس کی تلاوت کرنے لگ جائیں۔ بے شک یہ بھی اس کا ایک حصہ ہے اور یہ ساری باتیں اہم اور مطلوب ہیں۔ لیکن قرآن کا سمجھنا بھی قرآن کے سیکھنے کا ایک لازمی جزہے۔ آیئے اسی جذبہ کے ساتھ اللہ کے پاک کلام کو سمجھنے کی شروعات کرتے ہیں۔
اے ہمارے رب اپنی پاک کتاب کواچھی طرح پڑھنا, اس کے معانی ومطالب کو گہرائی کے ساتھ سمجھنا اور اس کے مطابق زندگی گذارنا ہمارے لئے آسان فرمادے, اس کتاب سے مضبوط وابستگی کی توفیق دے اور اس کے ذریعہ رفعت وسربلندی نصیب فرما اور اپنے فضل خاص سے حساب وکتاب کے دن اپنی اس بابرکت کتاب کو ہم سب کے حق میں حجت ثابت فرما۔آمین یارب العالمین۔
سورۃ الفاتحہ
سورہ فاتحہ مختصر اور جامع سورہ ہے۔ پہلے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں
شروع (کرتاہوں)اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔
ہر طرح کی تعریف اور شکر اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام مخلوقات کا رب ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ بدلہ کے دن کا مالک ہے۔ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہم کو سیدھے رستے کی ہدایت دے۔ ان لوگوں کا راستہ جس پرچلنے والوں پر تونے انعام نازل کیا۔ ان لوگوں کا نہیں جن پر تیراغضب نازل ہوا اور نہ ان کا جو گمراہوگئے۔آمین
سورہ فاتحہ قرآن کریم کی سب سے پہلی سورۃ ہے۔یہ سورۃ اصلا ایک دعاء ہے۔جو اللہ رب العالمین کی جانب سے بندوں کو سکھائی گئی ہے۔ اس دعا کی عظمت اور اس کی قبولیت کا اندازہ رسول اللہﷺ کے فرمان سے لگایا جاسکتاہے۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ اللہ تعالی فرماتاہے:
میں نے نمازیعنی سورۃ فاتحہ کو اپنے اور اپنے بندہ کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کرلیاہے۔ جب میرا بندہ یہ کہتاہے کہ تمام تعریف اور شکر اللہ رب العالمین کے لئے ہے تو میں کہتاہوں کہ میرے بندہ نے میری تعریف کی۔اسی طرح جب الرحمن الرحیم کہتا ہے تو میں کہتاہوں کہ میرے بندہ نے میری حمدوثنابیان کی۔ پھر جب کہتا ہے مالک یوم الدین تو میں کہتاہوں کہ میرے بندہ نے میری بڑائی اور کبریائی بیان کی۔ پھر میرا بندہ جب مجھ سے ہدایت طلب کرتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میرا بندہ جوکچھ مجھ سے مانگ رہاہے میں نے اس کو وہ چیز عطاکردی۔
اس میں دعاء سے قبل آداب دعاء کی تعلیم بھی دی گئی ہے اور اس میں یہ بھی سکھایا گیا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہدایت کا حصول اور صراط مستقیم کی رہنمائی ہے۔چنانچہ اللہ کی حمدوثنا اور شکروسپاس کے بعدسب سے پہلے اسی چیز کی طرف توجہ دلائی گئی کہ تمہاری سب سے پہلی طلب ہدایت ہونی چاہیے۔ اللہ کی توفیق سے جن لوگوں کو سیدھے راستے کی ہدایت مل گئی وہ لوگ خوش قسمت اور اللہ کے انعام کے مستحق ہیں۔ اس سورہ میں یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ عبادت وبندوگی کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے اور اسی سے ہر قسم کی مد داور استعانت ہو نی چاہئے۔اس کے علاوہ کسی اور سے کسی قسم کی استعانت جائز نہیں۔صراط مستقیم کی مزید وضاحت کردی گئی کہ اس سے مراد انبیاء اور صالحین کا راستہ ہے۔ یہی لوگ ہیں جو اللہ کے انعام کے مستحق ہیں۔ یہودجن کے او پر اللہ کا غضب نازل ہواونصاری جو حامل کتاب ہونے کے باوجود راہ حق سے بھٹک گئے, ان کے راستہ سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین

سورۃالبقر(آیات۱تا۱۴۱)
سورہ بقرہ ہجرت کے بعد نازل ہونے والی طویل ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔اس کی بعض آیات ہجرت سے پہلے بھی نازل ہوئی ہیں۔سورۃ البقرۃ کاآغازدعا کی قبولیت کے اعلان سے ہوتاہے۔وہ یہ کہ جس ہدایت کی تم نے دعاء کی تھی اور جس پر چلنے والے اللہ کے انعام کے مستحق ہوئے اس ہدایت کا مجموعہ یہ قرآن ہے۔جس میں کسی طرح کا کوئی شک اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے جو لوگ ا س کومضبوطی کے ساتھ تھام لیں اور اس کے مطابق زندگی گزاریں وہی لوگ حقیقت میں کامیاب وکامران ہیں۔
مدنی زندگی میں مخالفین کا ایک نیا جتھا منافقین کا بھی تھا۔ اس لئے اللہ نے ان کی فطرت سے بھی مسلمانوں کو آگاہ فرمایااور یہ اعلان بھی کردیاگیاکہ یہ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دے رہے ہیں حا لانکہ سچی بات یہ ہے کہ وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اوربالآخر ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
عام انسانوں کو ایک اللہ کی بندگی کی دعوت دی گئی اور رب العالمین کے احسانات یاد دلائے گئے۔ قرآن حکیم اور رسالت کے تعلق سے شک میں مبتلا لوگوں کو جھنجھوڑاگیااور چیلنج کیاگیا کہ اگر واقعتا تمہیں شک ہے تو اپنے سارے مددگاروں کوبلالو اور ان سے مدد لے کر قرآن کے مثل ایک چھوٹی سی سورہ بھی بنا سکو توبناکر لے آؤ۔ اس کے معا بعد یہ بھی کہہ دیاگیاکہ تم ایسا تو ہرگز نہیں کرسکتے۔
آدم وحوا علیہما السلام کی تخلیق کا واقعہ بیان فرماکرانسانوں کے مقصد تخلیق کو بھی واضح کردیا گیا۔یعنی یہ کہ انسان کی حیثیت زمین پرخلیفہ کی ہے۔اس عظیم مقصد کے پیش نظر اللہ نے آدم کو وہ تمام علوم عطاکئے جو ضروری تھے۔ اسی کے ساتھ انسانوں کو آگاہ کیا گیا کہ شیطان تمہارا کھلاہوا دشمن ہے اس سے ہمیشہ چوکنا رہو۔
سابقہ امتوں پر بنی اسرائیل کی فضیلت کی تاریخ بیان کرکے ان کو اپنے اوپر غور کر نے کی دعوت دی گئی اور شفاعت کے فاسد عقیدہ کا ابطال کیا گیا جس میں مبتلا ہوکر لوگ مزید بے عملی اور بد عملی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ شفاعت کے غلط تصور نے آج امت مسلمہ کو بھی بہت زیادہ نقصان پہونچایا ہے جس کے اثرات بداعمالیوں اور بے راہ روی کے شکل میں ظاہر ہورہے ہیں۔
اہل کتاب کی مسلسل نا فرمانیوں کے سبب اور واضح نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے تھے۔ بلکہ پتھرسے بھی زیادہ سخت ہوگئے تھے۔کیوں کہ پتھروں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے چشمے پھوٹ پڑ تے ہیں،کوئی پھٹتا ہے اور اس سے نہریں بہہ پڑتی ہیں اور کوئی اللہ کے خوف سے لرز کر گربھی جاتا ہے۔لیکن انسانوں نے اپنی فطرت اتنی بگاڑ لی ہے کہ ان کے دلوں پر نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
اللہ کی کتا بوں کے ساتھ اہل کتا ب کے علماء کی تحریف معنوی وظاہری کے گستاخانہ رویہ پر بھی ان کی توبیخ کی گئی, ان کو اللہ کا عہد ومیثاق یاد دلایا گیا کہ اللہ کے ساتھ ہرگز کسی شریک نہ کرنا اور والدین اور اقرباء کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور ایک دوسرے کا خون نہ بہانہ۔لیکن انہوں نے اس کی پروانہ کی۔بنی اسرائیل کی نفسیات کا بھی تذکرہ کیا گیاکہ وہ اپنی بد اعمالیوں کے سبب موت سے بچناچاہتے ہیں اور دنیا کی طویل زندگی کے حریص ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ طویل زندگی ان کو موت اوراللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتی۔
اہل کتا ب کے اس سطحی اورگھٹیااعترض کابھی جواب دیا گیا کہ اگر تورات وانجیل اور قرآن سب اللہ کا ہی کلام ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دونوں کے احکام میں فرق ہو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا احکام نازل کرنے والا میں ہوں۔اپنے جس حکم کو چاہوں منسوخ کردوں اس کی جگہ اس سے بہتر کوئی حکم نازل کروں۔تمہاری فلاح اب صرف اور صرف قرآن کی اتباع اور پیروی میں ہے۔
اہل ایما ن کو نصیحت کی گئی کہ تم یکسو ہو کر نماز قائم کرو اور زکوٰ ۃ دو۔اور یاد رکھو کہ اپنی عاقبت کے لئے جوبھی نیکی کروگے اللہ کے ہاں موجود پاؤگے۔ اہل کتاب کے تعلق سے مسلمانوں کو صاف صاف نصیحت کی گئی کہ اہل کتاب تم سے ہرگز راضی نہیں ہوسکتے خواہ تم ان کا دین ہی کیوں نہ اختیار کرلو۔ اس لئے ان کوخوش کرنے کی فکر جھوڑ دو۔
منصب امامت سے بنی اسرائیل کی معزولی کے بعد امت محمدیہ کی امامت کا اعلان فرمایا گیا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہی کے تذکرہ سے اس کا آغاز فرمایا۔ یہ بات بھی واضح کردی گئی یہ امامت وسیادت کوئی پدرانہ وراثت نہیں ہے کہ تم اس کے مستحق ہو یانہ ہو یہ تمہیں مل کر ہی رہے گی۔ بلکہ یہ وعدہ ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے صرف ان لوگوں سے ہے جوصالح اور اس کے اہل ہوں گے۔ ظالم اور نافرمان اس کے مستحق ہر گز نہیں ہوں گے۔
اہل ایمان کے لئے رزق کی کشادگی کی دعاء کے جواب میں اللہ نے یہ واضح کردیاکہ جہاں تک روزی کی بات ہے تو ہم ظالموں اور نافرمانوں کو بھی چند روزہ سامان زندگی تو دیں گے۔ مگر ان کے لئے بالأخردرد ناک عذاب ہے۔
اس موقعہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے ایک ایسے رسول کی بعثت کی دعاء فرمائی جو اللہ کی آیا ت کی تلاوت کریں کتاب وحکمت کی تعلیم دیں اور لوگوں کا تزکیہ کریں۔اللہ نے یہ دعاء قبول فرمائی اور آخری نبی ﷺ کو ان کاموں کے لئے مبعوث فرمایا۔
ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی توحید اور دعوت کا تذکرہ کرتے ہوئے اہل کتاب کو متوجہ کیا گیا کہ ابراہیم ؑ اور یعقوب ؑ کی وصیتوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنی ذریت کو کتنے واضح انداز میں شرک سے روکا اور توحید کے اختیا ر کرنے کی وصیت کی ہے۔اگر تم خود کوبراہیمی کہتے ہو تو شرک کیوں کرتے ہو اللہ کا رنگ اختیا ر کرو یقینا سب سے بہتر رنگ تو اللہ کا رنگ ہے۔
پھر ہم سب کو شہادت حق یعنی لوگوں کے سامنے توحید کی دعوت پہہچانے کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے ارشاد ہواکہ اس شخص سے بڑاظالم اور کون ہوگا جسکے ذمہ اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے جھپائے یقینا یہ بڑا ظلم ہے۔

DiscoverIslamNp

DiscoverIslamNP is specifically for Islamic education. The best way to provide authentic Islamic education through DiscoverIslamNP is to adapt to the will of Islam. The main goal of this site is to quench the thirst for Islamic knowledge and offer the right solution to various religious Problems.

Leave a Reply