۔۔۔۔اور جب آنکھیں بھر آئیں ۔۔۔۔

۔۔۔۔اور جب آنکھیں بھر آئیں ۔۔۔۔

کہتے ہیں کہ عشق کے لئے نہ کوئی قید ہے، نہ قید و بند کی صعوبتیں، محبت کو نہ پابندِ سلاسل کا خوف ہے ،نہ سیسا پلائی ہوئی دیوار کا، عشق و محبت کی راہ میں درپیش دنیا کی ساری رکاوٹیں اسکی روح، جان نثاری، وارفتگی ،اپنی جان ،جانِ جاناں کے حوالے کر دینے کے جذبے سے دور ہوجاتی ہیں، عشق سالوں تک نفرت و عداوت، بے چینی و جانکنی کی آگ میں تپ کر کندن بنتی ہے، پھر اپنا مقام پاتی ہے ،ایک افسانہ ہے کہ ایک عاشق زار اپنی ناکام و نامراد محبت کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کی تمام تر طاقتوں کی قدم بوسی کرتا ہے، غلامی کرتا ہے، جسم و جاں داو پر لگا دیتا ہے، پھر بھی اسی عشق و محبت کی چاشنی نہیں ملتی ہے ،اپنے مطلوب معشوق کی آ ہیں اسے چین نہیں لینے دیتی ہیں، لیکن دنیا کی نگاہ میں تو عشق جرم ہے، نتیجہ میں اسے پابندِ سلاسل کردیا جاتا ہے ،ایک سچے عاشق کی زبان جیل کے دربان سے بولتی ہے، ” صاحب ❕عشق و محبت کے لئے جیل کی کالی کوٹھریوں سے بہتر کوئی جگہ نہیں ۔”

آج محبت کی وہی بے چینی، بے اطمینانی اور تپش دیکھنے کو ملی ،وقت ڈیڑھ پونے دو بجے کا تھا ،بند کمرہ ،بند دروازے، سرد جذبے اور بجھی بجھی سی امیدیں تھیں، پر دل کا دروازہ کھلا تھا ،خالق و مالک کے سوا اس پر نہ کسی کا پہرہ تھا ،نہ کسی کا خوف، ہر لمحہ عشق و محبت کی چنگاری رہ رہ کر سلگ جاتی، پھر نامید سرد پڑ جاتی،
بند دروازے پر دستک ہوا ،دل نے سوچا، لو ،آیا سامانِ شکم ، پر معاملہ مختلف تھا ،اس بار بات شکم کی نہیں ،دل کی تھی ،جان کی تھی ،وارفتگی و جانثاری کی تھی ، محبت تمام تر خاردار و پر خطر راہ کو سر کرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں محبت و اخلاص و عنایت کا گلدستہ لئے پروانے کو چراغ تو بلبل کو پھول بس ،کی زندہ مثال پیش کر ہی تھی ، اور زبانِ عشق گویا تھی
یہ قدم قدم بلائیں یہ سوادِ کوئے جاناں



وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری

مایوس دل نے یقین کرنے سے انکار کردیا کہ دروازے پر محبت کھڑی ہے، کیونکہ پوری دنیا بند ہے ،راستہ ہے کہ قدم قدم پر کانٹے ہیں یہ حقیقت نہیں فسانہ ہے ،ایسا خواب ہے جسکی تعبیر نہیں،
لیکن دل اپنے حقیقی محبت کو پہچان لیتا ہے ، دروازے پر جانا ہوا ،پہچانا ہوا ،مانوس سراپا اخلاص کا پیکر اور محبت و عنایت کا مجسم آنکھوں کے سامنے تھا ،مایوس دل سے آواز نکلی ، “محبت آج بھی بازی لے گئی ”
دل تھا جو قید و بند کے کھول میں سسک رہا تھا اور محبت دروازے پر کھڑی اپنی عاشقی کے پھول نچھاور کرتے تھک نہیں رہی تھی ،دونوں کے درمیاں ظالم دنیا اور بے رحم دربان تھا جو دونوں کی تپش سے نا آشنا تھا، عشق کی تپش تھی جو بجھی نہیں، بڑھ گئی، محبت کی پیاس تھی جسکی تشنگی نہ جانے کب تک محسوس ہوگی، دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ،پھر یک لخت دو محبت کے درمیان قید کا دروازہ حائل ہوگیا،

سچ کہا ہے سچی محبت اپنے محبوب کی دیدار کے لئے جسم و جاں قربان کر دیتی ہے
محبت کی مٹھاس شدت کی تپش پر غالب آتی ہے ،
عشق کی چنگاری نفرت و عداوت کے شعلے پر پانی بہادیتی ہے
محبت کمزور دل کو طوفاں سے مقابلہ کرنے پر آمادہ کردیتی ہے،

ہزار سلام اس محبت پر جس نے عالم ناامیدی میں امید کے کرن جلائے،
سلام اس اخلاص کو جسکا کوئی ثانی نہیں
سلام اس احسان پر جسکو بھلایا جانا ناممکن ہے
شکریہ شکریہ شکریہ شکریہ

بقول فیض احمد فیض

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جارہا ہے پھر کوئی شبِ غم گزار کے

اور
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملاقات کی

خاص پس منظر

نیپالی  زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ سننا چاہتے ہیں، یہاں  کلک کریں

DiscoverIslamNp

DiscoverIslamNP is specifically for Islamic education. The best way to provide authentic Islamic education through DiscoverIslamNP is to adapt to the will of Islam. The main goal of this site is to quench the thirst for Islamic knowledge and offer the right solution to various religious Problems.

Leave a Reply