شرک کی تباہ کاریاں
اور اگر یہ لوگ (توحید کی راہ چھوڑ کر ) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا اکارت جاتا ۔

شرک کی تباہ کاریاں

شرک کی تباہ کاریاں

(۱)عذاب الٰہی کی دھمکی

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں شرک وکفر جیسے گناہ عظیم کے ارتکاب پر شدید ترین دنیاوی عذاب کی بھی دھمکی سنائی ہے۔ ارشاد ربانی ہے

(وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَداً* لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْئاً إِدّاً* تَکَادُ السَّمَاوَاتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدّاً* أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَداً )۔

“اور ان لوگوں (عیسائیوں )نے کہا’’خدائے رحمان نے اپنا ایک بیٹا بنا رکھا ہے۔ بڑی ہی سخت بات ہے جو تم گھڑلائے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے ،زمین کا سینہ چاک ہوجائے،پہاڑ جنبش میں آکر گر پڑیں!کہ لوگ اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔[سورۃ مریم :۸۸تا ۹۰]

(۲)عذاب الٰہی کا نزول

نوح علیہ السلام کی قوم سے لے کر آج تک اللہ رب العالمین اپنی اور اپنے رسولوں کی تکذیب اور کھلم کھلم شرک کا ارتکاب کرنے والی بیشمار قوموں پر اپنا درد ناک عذاب نازل کرچکا ہے ،بطورمثال قوم نوح کا تذکرہ ملا حظہ فرمائیں۔ اللہ فرما تا ہے

(فَأَوْحَیْْنَا إِلَیْْہِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا فَإِذَا جَاء أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ فَاسْلُکْ فِیْہَا مِن کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَأَہْلَکَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ مِنْہُمْ وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِیْ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا إِنَّہُم مُّغْرَقُونَ )۔

“پھر ہم نے اُن کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوائے اُن کے جن کی نسبت، ان میں سے، (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہو چکا ہے، اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا وہ ضرور ڈبو دیے جائیں گے‘‘ ۔(سورۃ ہود :۳۶،۳۷)

(کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَکَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ * فَدَعَا رَبَّہُ أَنِّیْ مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ* فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاء بِمَاء مُّنْہَمِرٍ * وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُوناً فَالْتَقَی الْمَاء عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ * وَحَمَلْنَاہُ عَلَی ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ * تَجْرِیْ بِأَعْیُنِنَا جَزَاء لِّمَن کَانَ کُفِرَ * وَلَقَد تَّرَکْنَاہَا آیَۃً فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ * فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ *وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ )

’’ ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی۔ تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ (بارِ الٰہی) میں (ان کے مقابلے میں) کمزور ہوں۔ تو (ان سے) بدلا لے پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دہانے کھول دیے۔ اور زمین میں چشمے جاری کر دیے تو اپنے ایک کام کے لیے جو مقدر ہو چکا تھا جمع ہو گیا۔ اور ہم نے نوح کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کر لیا۔ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی (یہ سب کچھ) اس شخص کے انتقام کے لیے (کیا گیا) جس کو کافر مانتے نہ تھے۔ اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا کرچھوڑ اتو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے۔‘‘ (سورۃ القمر :۹تا۱۵)

(۳) بے غیرتی

شرک سے انسان کے اندر بے غیرتی پیدا ہو جاتی ہے اور اور جس مشرک کا شرک جتنا بڑا ہوگا اس کے اندر اسی قدر بے غیرتی زیادہ پائی جائے گی۔جس طرح زناکار مرد اور عورت اپنے شوہر یا بیوی کو چھوڑ کر دوسروں سے اپنی جنسی خواہش کی تسکین حاصل کرتے ہیں بالکل اسی طرح ایک مشرک اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے والی پیشانی کو غیروں کے سامنے جھکا کر بے غیرتی کا مظاہرہ کرتا ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر زنا اور شرک کو ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے۔

ارشاد ربانی ہے

( الزَّانِیْ لَا یَنکِحُ إلَّا زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْن)۔

“زانی مرد بجز زانیہ یامشرکہ عورت کے اور سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجززانی یا مشرک مرد کے اور سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا۔(سورۃ النور:۳ ، ترجمہ جوناگڑھی)

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ فرماتے ہیں

’’بعض کہتے ہیں کہ یہاں نکاح ،سے مراد معروف نکاح نہیں بلکہ یہ جماع کے معنی میں ہے اور مقصد زنا کی شناعت و قباحت بیان کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ:بدکار مرد اپنی جنسی خواہش کی ناجائز طریقے سے تسکین کے لیے بدکار عورت کی طرف اوراسی طرح بدکار عورت بدکار مرد کی طرف رجوع کرتی ہے،مومنوں کے لیے ایسا کرنا یعنی زناکاری حرام ہے۔اور مشرک مردوعورت کا ذکر اس لیے کردیا کہ شرک بھی زنا سے ملتا جلتا گناہ ہے،جس طرح مشرک اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کے در پر جھکتا ہے اسی طرح ایک زنا کار اپنی بیوی کو چھوڑ کر یا بیوی اپنے خاوندکو چھوڑ کرغیروں سے اپنا منہ کالا کراتی ہے۔ یوں مشرک اور زانی کے درمیان ایک عجیب معنوی مناسبت پائی جاتی ہے‘‘۔(تفسیر احسن البیان ص:۹۶۴)

(۴) جملہ اعمال صالحہ کی بربادی

شرک اکبر کے مرتکبین خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم اگر وہ بغیر توبہ کیے مرگئے تو ان کی تمام نیکیاں بروز قیامت ضائع و برباد ہو جائیں گی جیسا کہ ارشاد ربانی ہے

( وَقَدِمْنَا إِلَی مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاہُ ہَبَاء مَّنثُوراً )۔

“اور انہوں نے دنیا میں جو نیک کام کیے تھے ان پر ہم متوجہ ہوں گے اور ان کو اڑتی خاک کی طرح کر دیں گے ‘‘(سورۃ الفرقان :۳۲، ترجمہ نواب وحید الزماں حیدرآبادی ؒ)

مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ، ’’کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ تم کچھ اچھے کام کرتے ہو تو ہم بھی بہت سے اچھے کام کرتے ہیں ، ہم حاجیوں کی خبر گیری کرتے ہیں ،انہیں پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں ،ان کی امداد کرتے ہیں ، غریبوں مسکینوں اور بیواؤں کے لیے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں ، اور انہیں وظیفے دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہاں کافروں کے ایسے ہی اچھے اعمال کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہم ان کے ایسے اعمال کی طرف بڑھیں گے تو انہیں اڑتا غبار بنادیں گے ، وجہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ اعمال اس غرض سے تو کیے ہی نہیں تھے کہ ان کو آخرت میں ان کا بدلہ ملے ۔ کیونکہ وہ آخرت پر تو یقین ہی نہیں رکھتے تھے ۔ ان کے اعمال کی کچھ بنیاد ہی نہ تھی جس پر وہ قائم رہ سکتے ۔ دنیا میں اگر انہوں نے کچ اچھے اعمال کیے تھے تو صرف اس غرض سے کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں اور اچھا کہیں اور یہ کام دنیا میں ہو چکا ۔ ان کے اچھے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں مل چکا ،آخرت میں ان کو اب کیا ملے گا ؟ اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکہف میں یوں بیان فرمایا

( فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْناً)۔ “یعنی ہم ایسے لوگوں کے لیے میزان الاعمال رکھیں گے ہی نہیں ۔”

وجہ یہ ہے کہ ان کے اچھے عمل تو اڑتا ہوا غبار بن گئے ، اب نیکیوں کے پلڑے میں رکھنے کے لیےکیا چیز باقی رہ گئی کہ ان کے لیےمیزان رکھی جائے ۔‘‘ (تیسیر القر آن ج۳ ص۳۰۵)

علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

اما الشرک با اللہ والکفر بالرسول فانہ یحبط جمیع الحسنات بحیث لا تبقی معہ حسنۃ ۔

(بہر حال اللہ کے ساتھ شرک اور رسول ﷺ کی رسالت کا انکار یہ دونوں (گناہ) اس طور پر تمام نیکیوں کو برباد کردیتے ہیں کہ کوئی بھی نیکی باقی نہیں رہ جاتی ہے (ہدایۃ الحیاریٰ فی اجوبۃ الیہود والنصاریٰ ج ۱ص ۱۳۱)

یہ عقیدہ رکھنا کہ

“شرک سے متعلق تمام کی تمام آیات کفار اور ان کے بتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں مسلمان کچھ بھی کرتا رہے مشرک نہیں ہو سکتا “قرآن مجید کے سراسر خلاف ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے

( وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ )۔

“اور اگر یہ لوگ (توحید کی راہ چھوڑ کر ) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا اکارت جاتا ۔”(سورۃ الانعام : ۸۸ ، ترجمہ مولانا ابوالکلام آزادؔ)

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر ان الفاظ میں فرمائی ہے

’’اٹھارہ انبیاء کے اسماء گرامی (ابراہیم ؑ ، اسحٰق ؑ ، یعقوب ؑ ، نوح ؑ ، داؤد ؑ ، سلیمان ؑ ، ایوب ؑ ،یوسفؑ ، موسیٰ ؑ ، ہارون ؑ ، زکریاؑ ، یحییٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ ، الیاس ؑ ، اسماعیل ؑ ، الیسعؑ ، یونس ؑ ، لوطؑ )کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے :اگر یہ حضرات بھی شرک کا ارتکاب کرلیتے تو ان کے سارے اعمال برباد ہو جاتے ۔ جس طرح دوسرے مقام پر نبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا

(لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ )(الزمر ۔ ۶۵)۔

” اے پیغمبر!اگر تونے بھی شرک کا ارتکاب کیا تو تیرے سارے عمل برباد ہو جائیں گے ۔”

حالانکہ پیغمبروں سے شرک کا صدور ممکن نہیں ۔ مقصد امتوں کو شرک کی خطرناکی اور ہلاکت خیزی سے آگاہ کرنا ہے ۔(تفسیر احسن البیان ص :۳۵۹)

علامہ شوکانی رحمہ اللہ (لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ )کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

یہ کلام بطور تعریض رسولوں کے علاوہ دوسرے انسانوں کے با رے میں نازل ہوا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جملہ پیغمبروں کو شرک سے محفوظ فرما دیا ہے ،اور اس انداز سے (پیغمبروں کو خطاب کرکے)ذ کر کرنے کا مقصدعام بندوں کو شرک سے ڈرانا ہے کہ اگر بالفرض اللہ کے انبیاء شرک کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان کے بھی تمام اعمال برباد ہو جائیں گے، پھر تو انبیاء کے علاوہ دوسرے انسانوں کے اعمال شرک (شرک پر موت ) کی وجہ سے بدرجہ اولیٰ برباد ہو جائیں گے ۔(تفسیر فتح القدیر ۔سورۃ زمر :۶۵)

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ فرماتے ہیں

’’افسوس ہے کہ آج مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت بھی مشرکین عرب کی طرح توحید ربوبیت کی تو قائل ہے لیکن توحید الوہیت کی منکر ہے۔ اس لیے وہ ما فوق الاسباب طریقے سے غیر اللہ سے بھی امیدیں وابستہ کرتی ہے، غیر اللہ کے نام کی بھی نذرو نیاز دیتی ہے ،غیر اللہ سے بھی استمدادو استغاثہ کرتی ہے، قبروں کا طواف کرتی ہے ،بہت سے لوگ قبروں کو سجدہ تک کرتے ہیں ،کیونکہ وہ غیر اللہ میں بھی اللہ وا لی صفات تسلیم کرتے ہیں،حالانکہ یہ شرک ہے ؂بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے (علامہ اقبال ؒ)

[توحید اور شرک کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں، ص: ۵۱ ]علامہ

ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

ومن المحال ان یکون دعاء الموتی ، اوالدعاء بہم او الدعاء عندہم مشروعا وعملاً صالحاًویصرف عنہ القرون الثلاثۃ المفضلۃ بنص رسول اللہ ﷺ ثم یرزقہ الخلوف الذین یقولون ما لا یفعلون ویفعلون مالا یو ء مرون،فہذہ سنۃ رسول اللہ ﷺ فی اہل القبور بضعاً وعشرین سنۃ وہذہ سنۃ خلفاءالراشدین وہذہ طریقۃ جمیع الصحابۃوالتابعین لہم باحسان۔

“اگرفوت شدہ بزرگوں کو پکارنااور ان کے وسیلے سے دعا کرنا یا ان کی قبر کے پاس اپنے لیےدعا مانگنادرست اور جائز ہوتا تو اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ صحابۂ کرامؓ،تابعین عظام ؒ اس سے پیچھے رہ جاتے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس امت کے افضل انسان جن کو سید المرسلینﷺ کی زبان اطہر سے خیر القرون ہونے کا سر ٹیفیکٹ ملا ہو، وہ ایسے عمل سے غافل رہے ہوں اور بعد والوں کو اس کا علم ہوا ہو جو وہ کام کرتے ہیں جس کا حکم نہیں ہے اور وہ بات کہتے ہیں جس کی اجازت نہیں ہے ۔ یہ ہے وہ طریقہ جسے آنحضرت ﷺ نے۲۳ سال تک اختیار کیا حتی کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ، اور یہی خلفاء راشدینؓ اور تمام صحابہء کرامؓ کی سنت ہے اور تابعین عظام کا طریقہ ہے۔” (رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت اس لیے مشروع کی تھی کہ آخرت یاد رہے اور میت کو نیکی پہنچے اس طرح کہ اس کے لیے رحمت کی دعا کی جائے اور اللہ سے اس کے لیے بخشش اور عافیت کا سوال کیا جائے)

[اغاثۃ اللہفان من مصائد الشیطان ج۱ ص:۲۰۲۔ ترجمہ عبد الجبار السلفی ایم اے]

(۵)دعاء مغفرت سے محرومی

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے حق میں دعائے مغفرت کرنے سے منع فرمایا ہے چاہے وہ نبیﷺ کے گھرانے اورخاندان ہی کے کیوں نہ ہو ں۔ ارشاد ربانی ہے

( مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ أَن یَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِکِیْن وَلَوْ کَانُواْ أُوْلِیْ قُرْبَی مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُمْ أَصْحَابُ الْجَحِیْم)”

پیغمبر اور ان لوگوں کوجو ایمان رکھتے ہیں ایسا کرنا سزاوار نہیں کہ جب واضح ہو گیایہ لوگ دوزخی ہیں،تو پھر مشرکوں کی بخشائش کے طلب گارہوں اگر چہ وہ ان کے عزیزو اقارب ہی کیوں نہ ہوں۔”(سورۃ التوبۃ :۱۱۳۔ ترجمہ ابوالکلام آزادؔ ؒ)

سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ

جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آپہنچا تونبی ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت ان کے پاس ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی موجود تھے۔رسول اللہﷺ نے ابوطالب سے فرمایا :اے چچا! لا الہ الا اللہ کہہ دیجیئے اس کلمے کے ذریعہ میں اللہ کے پاس آپ کے حق میں (مسلمان ہونے )کی گواہی دوں گا ،۔اتنے میں ابوجہل او ر ابن ابی امیہ کہنے لگے :اے ابوطالب کیا تو عبد المطلب کے دین سے اعراض کر رہا ہے؟رسول اللہ ﷺ برابر اپنی بات دہراتے رہے اوروہ دونوں (ابوجہل اورابن ابی امیہ)اپنی بات دہراتے رہے لیکن ابوطالب نے لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا اورآخر میں یہ کہہ کرکہ وہ عبدالمطلب کے دین پرہیں ،وفات پاگئے۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایااے چچا ! اللہ کی قسم جب تک مجھے منع نہیں کردیا جاتا میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا۔ اس موقع پر اللہ نے اس آیت کریمہ(مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ أَن یَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِکِیْن)کو نازل فرمایا۔(صحیح بخاری:۱۳۶۰)

(۶) بروز محشرشفاعت نبوی ﷺ سے محرومی

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

ہرنبی کے لیےایک ایسی دعا ہے جو ضرور قبول کی جاتی ہے۔ہر نبی نے اس دعا کے سلسلے میں جلدی کی اسے دنیا ہی میں مانگ لیا۔ لیکن میں نے اپنی وہ دعا بروز قیامت اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے۔اور میری وہ شفاعت ان شاء اللہ میری امت کے ہر شخص کو نصیب ہوگی جو اس حالت میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ۔( صحیح مسلم :۵۱۲)

(۷) مشرکوں کو قیامت کے دن زمین کی ساری دولت کا فدیہ بھی جہنم سے نہیں بچا سکے گا۔

( وَلَوْ أَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِیْ الأَرْضِ لاَفْتَدَتْ بِہِ وَأَسَرُّواْ النَّدَامَۃَ لَمَّا رَأَوُاْ الْعَذَابَ وَقُضِیَ بَیْْنَہُم بِالْقِسْطِ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُون)۔

“اور اگر ان ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہوتاجو زمین میں ہے، اور اسی جیسا اور ہوتاتو قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سارے کا سارا دے ڈالتے، اور (اس دن ) اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ ظاہر ہوگاجس کا وہ گمان بھی نہیں کرتے تھے‘‘۔ (سورۃ الزمر:۴۷)

ڈاکٹر محمد لقمان السلفی حفظہ اللہ فرماتے ہیں

’’ اس آیت میں عذاب آخرت کی شدت و ہولناکی بیان کی گئی ہے کہ شرک کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے جب قیامت کے دن عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اس کی ہولناکی کا اندازہ کر کے تمنا کریں گے کہ اگر ان کے پاس زمین بھر کر دولت ہوتی اور اتنی دولت اور ہوتی ، اور سب دے کراس عذاب سے نجات مل جاتی تو وہ ایسا کرنے میں ذرا بھی تاخیر نہ کرتے، اس لیے کہ وہ ایسا خطرناک اور درد ناک عذاب ہوگاجو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، اور دنیا میں جن گناہوں کا ارتکاب کرتے رہے تھے ان کا انجام بدان کی آنکھوں کے سامنے ہوگا، اور جس عذاب کا مذاق اڑاتے رہے تھے وہ انہیں ہر طرف سے گھیر لے گا۔”[ تیسیر الرحمن لبیان القرآن :۱۳۰۴]

(۸) بروز قیامت تمام معبودان باطل مشرکوں سے اپنی براء ت کا اعلان کردیں گے۔

( وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ فَیَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ہَؤُلَاء أَمْ ہُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ * قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنبَغِیْ لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِکَ مِنْ أَوْلِیَاء وَلَکِن مَّتَّعْتَہُمْ وَآبَاء ہُمْ حَتَّی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوا قَوْماً بُوراً )۔

“اور جس دن (اللہ) ان کو اور انہیں جنہیں یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہو گئے تھے؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایاں نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کو نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے ۔”(سورۃالفرقان :۱۷،۱۸)

مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں

“یعنی معبودوں کو بھی اور ان کی عبادت کرنے والوں کو بھی سب کو آمنے سامنے لا اکٹھا کرے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ پہلے معبودوں ہی کو مخاطب کر کے پوچھیں گے کہ ’’کیا تم نے میرے ان بندوں کو کہا تھا کہ ہم تمہارے مشکل کشا اور حاجت روا ہیں لہذا ہمارے یہاں نذرانے پیش کیا کرو ۔ ہم قیامت کے دن تمہیں اللہ سے بخشوا لیں گے یا ان عبادت گزاروں اور تمہارے عقیدت مندوں نے خود ہی ایسے عقیدے گھڑ لئے تھے ؟ اس سوال کے جواب میں معبود حضرات کہیں گے کہ یا اللہ!ہم تو خود تجھے ہی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے رہے، تیرے ہی سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتے رہے ، تیرے ہی حضور جھکتے اور نذر و نیاز یں گزارتے رہے ۔ تجھے ہی اپنا کارساز سمجھتے رہے ۔ پھر بھلا ہم انہیں یہ کیسے کہہ سکتے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر تم ہمیں یا کسی دوسرے کو اپنا کارساز بنالو۔اس سوال و جواب سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بُت نہیں ۔ کیونکہ بے جان کا اللہ کو کارساز بنانے کا کچھ مطلب ہی نہیں ۔ ایسے سوال و جواب اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے بھی کریں گے جنہیں نصاریٰ نے اپنا معبود بنا رکھا ہے ( سورۃ مائدہ آیت نمبر ۱۱۶تا ۱۱۸) اسی طرح آگے سورہ سبا کی آیات نمبر ۴۱،۴۲ میں مذکور ہے کہ ایساہی سوال و جواب فرشتوں سے بھی ہوگا جن کی پوجا کی جاتی رہی ہے۔ رہی یہ بات کہ عموماً ’’ما ‘‘ کا لفظ غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے اور ذوی العقول کے لیے ’’من ‘‘ کا لفظ آتا ہے تو یہ کوئی ایسا کلیہ نہیں جس میں استثنا ء نہ ہو۔ یہ ذوی العقول کے لیے آسکتا ہے جیسے(إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ فَإِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُومِیْن)(۲۳:۶) اور استفہامیہ ہونے کی صورت میں بھی آسکتا ہے جیسے مازید ؟ زید کیا ہے؟(منجد) [تیسیر القرآن ج۳ ص:۳۰۱،۳۰۲]

(۹)مشرکوں کو قیامت کے دن رسول و پیغمبر کی قرابت داری بھی کچھ فائدہ نہ دے گی۔

پیغمبروں کی مشرک بیویاں بھی شرک کے سبب جہنم میں جلیں گی۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے

(ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا اِمْرَأَۃَ نُوحٍ وَاِمْرَأَۃَ لُوطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللَّہِ شَیْئاً وَقِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ )۔

“اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے دونوں ہمارے دو نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں اور دونوں نے ان کی خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ۔(سورۃ التحریم:۱۰)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ؛

’’دیکھو! دو پیغمبروں کی عورتیں حضرت نوح علیہ السلام کی اور حضرت لوط علیہ السلام کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی، دن رات اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے والی بلکہ( ساتھ ہی)سونے جاگنے والی تھیں لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھی اور اپنے کفر پر قائم تھیں ،پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی ،انبیاء اللہ انہیں اخروی نفع نہ پہنچا سکے اورنہ اخروی نقصان سے بچا سکے بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا۔یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد یہاں بدکاری نہیں ،انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں،بلکہ یہاں خیانت فی الدین مراد ہے یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ،ان کا ساتھ نہ دیا۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ’’ان کی خیانت زناکاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کی نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں ،اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان لوط علیہ السلام کے یہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھی ،یہ دونوں بد دین تھیں ۔(تفسیر ابن کثیر اردو ج ۵ ص۳۷۴)

*پیغمبروں کی اولاد ،اور ان کے والدین بھی اپنے شرک کی وجہ سے بروز قیامت جہنم رسید ہو جائیں گے جیسا کہ نوح علیہ السلا م کا بیٹا جب ان کی نگاہوں کے سامنے ڈوبنے لگا اور انہوں نے اس کو بچانے کے لیے اللہ سے درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ تمہا را بیٹا تمہاری رسالت پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے تمہارے اہل میں سے نہیں رہا۔

ارشاد ربانی ہے

( وَنَادَی نُوحٌ رَّبَّہُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابُنِیْ مِنْ أَہْلِیْ وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنَ* قَالَ یَا نُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ فَلاَ تَسْأَلْنِ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنِّیْ أَعِظُکَ أَن تَکُونَ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ* قَالَ رَبِّ إِنِّیْ أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَسْأَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہِ عِلْمٌ وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِیْ وَتَرْحَمْنِیْ أَکُن مِّنَ الْخَاسِرِیْن)۔

” اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار! میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سےہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تمہیں حقیقت معلوم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔ نوح نے کہا کہ پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی مجھے حقیقت معلوم نہیں اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔”(سورۃ ھود :۴۵تا۴۷)

* اسی طرح ابراہیم خلیل اللہ کا باپ آزر جو بت گر، بت فروش، اور بت پرست تھا قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام اس کو جہنم سے بچانے کے لیے اللہ سے شفاعت فرمائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ مشرک باپ کے حق میں ہرگز ان کی شفاعت قبول نہ فرمائے گا بلکہ ابراہیم علیہ السلام کی نظروں کے سامنے ہی ان کے باپ آزر کوبجو کی شکل میں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام قیامت کے دن جب اپنے باپ آ زر سے ملاقات کریں گے تو ان کے والد آزر کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا تو ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے کہیں گے کیا میں نے (دنیا میں ) آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کیجئے۔ وہ کہیں گے آج میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا ۔ اس وقت ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے: اے میرے رب ! تونے وعدہ فرمایا تھا کہ تو مجھے قیامت کے دن رسوا نہیں کرے گا ،آج اس رسوائی سے بڑی اور کون سی رسوائی ہوگی کہ میرے والد تیری رحمت سے سب سے زیادہ دور رہیں ۔ اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائے گا :انی حرمت الجنۃ علی الکافرین۔”میں نے جنت کافروں پر حرام قرار دے دی ہے ۔ “پھر کہا جائے گا اے ابراہیم!تمہارے قدموں کے نیچے کیا چیز ہے ؟وہ دیکھیں گے تو ایک ذبح کیا ہوا جانور خون میں لت پت وہاں پڑا ہوگا اور پھر اس کے پاؤ ںپکڑ کر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ (صحیح بخاری :۰ ۳۳۵)

علامہ داؤد راز ؔ رحمہ اللہ نے حدیث مذکور کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ؛

’’اس حدیث سے ان نام نہاد مسلمانوں کو عبرت پکڑنی چاہیئے جو اولیاء اللہ کے بارے میں جھوٹی حکایات و کرامات گھڑ گھڑ کران کو بدنام کرتے ہیں ۔مثلاً یہ کہ بڑے پیر جیلانی صاحب نے روحوں کی تھیلی عزرائیل علیہ السلام سے چھین لی جن میں مومن و کافر سب کی روحیں تھی وہ سب جنت میں داخل ہو گئے ۔ ایسے بہت سے قصے بہت سے بزرگوں کے بارے میں مشرکین نے گھڑ رکھے ہیں ۔ جب خلیل اللہ جیسے پیغمبر قیامت کے دن اپنے باپ کے کام نہ آسکیں گے تو دوسرے کی کیا مجال ہے کہ بغیر اذن الٰہی کسی مرید یا شاگرد کو بخشواسکیں ۔[صحیح بخاری اردو مع شرح داؤد رازؔ ؒ ج۴ ص :۶۴۱]

* سید الانبیاء والمرسلین ،شافع المذنبین ،محمد رسول اللہ ﷺ بھی قیامت کے دن اپنے مشفق و مہربان چچا ابو طالب کو حالت کفر میں وفات پانے کی بنا پر جہنم سے نہیں بچاسکیں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے آپ کے چچا کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا ’’ممکن ہے قیامت کے دن میری شفاعت ان کے کام آجائے اور انہیں جہنم میں ٹخنوں تک رکھا جائے گا جس سے ان کا بھیجا کھولتا رہے گا ‘‘(صحیح بخاری :۶۵۶۴)

علامہ داؤد راز ؔ رحمہ اللہ حدیث مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ؛

’’قرآن شریف میں ہے

(فَمَا تَنفَعُہُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِیْن)(مدثر:۴۸)۔

“ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کام نہ دے گی “

لیکن آیت میں نفع سے یہ مراد ہے کہ دوزخ سے نکال لیے جائیں ، یہ فائدہ کافروں اور مشرکوں کے لیے نہیں ہو سکتا۔ اس صورت میں حدیث اور آیت میں اختلاف نہیں رہے گا، مگر دوسری آیت میں جو یہ فرمایا

(فَلاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَاب)(البقرۃ :۸۶)۔

“یعنی ان سے عذاب کم نہیں کیا جائے گا “،

اس کا جواب یوں بھی دے سکتے ہیں کہ جو عذاب ان پر شروع ہوگا وہ ہلکا نہیں ہوگا، یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ بعض کافروں پر شروع ہی سے ہلکا عذاب مقرر کیا جائے ، بعض کے لیے سخت ہو۔ (صحیح بخاری اردو مع شرح داؤد رازؔ ؒ ج۸ ص:۴۰)

(۱۰)مشرک لوگ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے کبھی بھی جہنم سے نجات نہ پا سکیں گے ۔

ارشاد ربانی ہے

( إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاءُ وَمَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْداً)۔

” اللہ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس نے اللہ کیساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دُور جا پڑا ‘‘۔ (سورۃ النساء آیت :۱۱۶)

اللہ کا فرمان ہے

(إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ)

واللہ اعلم

DiscoverIslamNp

DiscoverIslamNP is specifically for Islamic education. The best way to provide authentic Islamic education through DiscoverIslamNP is to adapt to the will of Islam. The main goal of this site is to quench the thirst for Islamic knowledge and offer the right solution to various religious Problems.

Leave a Reply