تربیت اولاد میں مثالی ماں کا کردار
ماں کا جذبۂ ایمان جتنا زیادہ ہوگا یہ درس گا ہ اتنی ہی بلند معیار کی حامل ہو گی اور اس میں پلنے والے بچوں کی تربیت اتنی ہی عمدہ ہو گی۔

تربیت اولاد میں مثالی ماں کا کردار

“: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۔ {التحريم: 6{اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ،جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ” اس سے واضح ہے کہ ایک انسان جسے اپنی اصلاح کا حکم ہے اسی طرح اس پر اپنےگھر والوں کی اصلاح کی ذمہ داری بھی ہے ،

امام بخاری اور امام مسلم اللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عن عبد الله رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كلكم راع فمسئول عن رعيته، فالأمير الذي على الناس راع وهو مسئول عنهم، والرجل راع على أهل بيته وهو مسئول عنهم، والمرأة راعية على بيت بعلها وولده وهي مسئولة عنهم، والعبد راع على مال سيده وهو مسئول عنه، ألا فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته(
آگاہ رہو! تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا، پس امام جو کہ لوگوں پرنگہبان ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ، مرداپنے گھر والوں کا نگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا ۔ کسی شخص کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے، اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا ،آگاہ رہو کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان و نگران ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا)

ماں کی گود انسان کی پہلی درس گاہ ہے۔ ماں کا جذبۂ ایمان جتنا زیادہ ہوگا یہ درس گا ہ اتنی ہی بلند معیار کی حامل ہو گی اور اس میں پلنے والے بچوں کی تربیت اتنی ہی عمدہ ہو گی۔عربی میں ماں کو’’ ام‘‘ کہا جاتاہے۔ نبی اکرم ﷺ کو بھی’’ امّی‘‘ کہا گیا۔اس میں لفظی نسبت کے ساتھ ساتھ ایک معنوی نسبت ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم ﷺ ساری انسانیت کے لیے رحمت و شفقت تھے اور ماں اپنی اولاد کے لیے سراپا محبت و شفقت ہوتی ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں عورت اگر علم و ادب کی کوئی بڑی خدمت انجام نہ دے سکے تب بھی صرف اس کی ممتا ہی قابل قدر ہے جس کے طفیل مشاہیرِ عالم پروان چڑھتے ہیں ۔حکیم الامت نے امومت کو رحمت کہا اور اسے نبوت سے تشبیہہ دی ہے ۔ ماں کی شفقت کو وہ پیغمبر کی شفقت کے قریب قراردیتے ہیں کیونکہ اس سے اقوام کی کردارسازی ہوتی ہے ۔

بچوں کے لیے گھر کا ماحول سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ، کیونکہ تعلیم و تربیت کا اولین اور اہم ترین ادارہ گھر ہے ، گھریلو تعلیم و تربیت کے جو گہرے نقوش ثبت ہو جاتے ہیں ، وہ زندگی بھر نہیں مٹتے اور گھریلو تربیت ، ماحول سے ، معاشرہ سے ، مکتب و مدرسہ سے اور سلطنت و حکومت سے زیادہ موثر ہوتی ہے ۔ فی الواقع گھریلو تربیت بچوں کے نشو و نما میں بہت زیادہ کارگر ہوتی ہے ، اور گھر کے ارکان میں ماں باپ سب سے اہم ارکان ہیں ، اور بچوں کی اچھی تربیت ان ہی دونوں کی ذمہ داری ہے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمبی حدیث شریف میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ماں باپ کو مکمل ذمہ دار قرار دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” مرد ( باپ ) اپنے اہل و عیال کا ذمہ دار ہے ، اور ان کے بارے میں اس سے باز پرس ہوگی ” ۔ (بخاری و مسلم )

باپ حقیقت میں گھر کا قیم اور منتظم ہوتا ہے ، اس لیے وہ زیادہ تر گھر سے باہر رہتا ہے ، بال بچوں کی معاشی و ضروریات کی فراہمی و تکمیل میں سر گرم اور سر گرداں ہوتا ہے ، لیکن ماں گھر کی ملکہ اور ذمہ دار ہے ، اپنی گھریلو ذمہ دار یوں کو انجام دینے کے لیے زیادہ تر گھر ہی میں رہتی ہے ، اور ہمیشہ بچوں کے ساتھ رہتی ہے ، حسی طور پر بچوں سے بڑی قربت و انسیت رکھتی ہے ، اور بچے بھی فطری طور پر ماں ہی سے زیادہ قریب اور مانوس ہوتے ہیں ، اس لیے بچوں کی تعلیم و تربیت اور صلاح و فلاح کی زیادہ ذمہ دار بھی ماں ہی ہوتی ہے ، چنانچہ ایک لمبی حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” بیوی اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگراں اور ذمہ دار ہے ، اور اس سب کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا ” ۔ ( بخاری و مسلم)

تربیت اولاد کے لیے اہم نکات
۱۔ نکاح کے وقت اپنے بچوں کے لیے ایسی ماں کا انتخاب کیا جائے جو عقل و فہم کے ساتھ ساتھ دل و نگاہ سے بھی مسلمان ہو۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: الدنيا متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة’’دنیا متاع ہے اوراس کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔‘‘(ریاض الصالحین)
۲۔ ماں اور باپ دونوں کثرت سے صالح اولاد کی دعا کریں۔
۳۔ ماں،دوران حمل کثرت سے اللہ کاشکر ادا کرتی رہے۔اس دوران پیش آنے والی کسی بھی جسمانی یا ذہنی تکلیف کو صبراور خندہ پیشانی سے برداشت کرے۔اللہ کاذکر،نماز کی پابندی،باوضو رہنے کی کوشش،اچھی اور پاکیزہ گفتگو اختیار کرے ۔اس مدت میں ماں کی افسردگی،بے چینی اور بے آرامی بچے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ والدین بچے کو جو بنانا چاہتے ہیں اس زمانے میں ماں کو اسی کی طرف یکسو ہونا چاہیے۔جس لائن پر لگا نا چاہتے ہیں،جس مضمون یا فن کا ماہر بنا نا چاہتے ہیں،ماں کواس کی طرف توجہ دینی چاہیے اور ویسے ہی ماحول میں رہناچاہیے۔اسلاف کی مائیں اس زمانے میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرتیں یا قرآن مجید سنا کرتی تھیں۔
۴۔ماں کو چاہیے کہ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے ،شکر گزاری کے گہرے جذبات کے ساتھ بچے کا ستقبال کرے۔بیٹاہو یا بیٹی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک مسلمان کی حیثیت میں پیدا ہونے پر مولود کے کان میں اذان و اقامت کہلوانا،نیک ،صالح فرد کے ہاتھوں تحنیک یا گھٹی دلوانا،اچھا اور بامعنی نام رکھنا،مدت رضاعت میں دودھ پلانا بچے کے وہ بنیادی حقوق ہیں جن کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ ایک نیک و صالح ماں پہلے سے ہی ان باتوں کے باے میں اچھی طرح سوچ کر مشورہ کر چکی ہوتی ہے
۵۔دودھ پلانے کی مدت میں باوضو حالت میں دودھ پلانے اور اس دوران قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہنے سے بچے کی شخصیت پر بہت مثبت اور خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے بچے غیر معمولی ذہین اور سمجھدار ہوتے ہیں۔
۶۔چالیس دن کے اندر کیسٹ کے ذریعے، ہلکی آواز میں قرآن مجید کی تلاوت سنا دینے سے بچہ قرآن سے مانوس ہو جاتا ہے۔
۷۔بتدریج بڑھتے ہوئے بچے کے ساتھ اچھی گفتگو کرنا،لباس تبدیل کرواتے اورکھلاتے پلاتے وقت دعائیں پڑھنا،اچھی کہانیاں سنانے سے بچے کی شخصیت مثبت رخ پر پروان چڑھتی ہے اور اس کے ذخیرۂ الفاط میں اضافہ ہوتا ہے۔
۸۔بچہ بولنا شروع کرے توسب سے پہلے اللہ کا نام سکھا یا جائے،اذان کی طرف متوجہ کیا جائے،کلمہ طیبہ،بسم اللہ،الحمد للہ،السلام علیکم جیسے چھوٹے اور بابرکت الفاظ نہ صرف سکھائے جائیں بلکہ متعلقہ مواقعوں پر انہیں کہنے کا اہتمام بھی کیا جائے۔
۹۔بچے کی تربیت و کردار سازی میں ابتدائی چند سال بہت زیادہ اہم ہیں۔بچپن کا ماحول بچے پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتاہے اور بچہ اسی ماحول کے زیر اثر زندگی گزارتا ہے۔شروع کے چند سال بچے کو والدین اور خاص طور پر ماں کی بھرپور توجہ اور شفقت نہ ملے اور باہم تعلق پید انہ ہوتو بچے کے اندر غیر معمولی جارحانہ پن اورمنفی انداز فکر پید اہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ماں کی قربت میں بچے کے لیے ایک خاص کشش رکھی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی

۱۰۔ سات سال کی عمر سے اللہ تعالی نے نماز کی ادائیگی کاحکم دیاہے۔اس سے قبل بچے کو نماز کا سبق تھوڑا تھوڑ اکر کے یاد کروا دیا جائے۔گھر میں ماں نماز کی پابندی کرنے والی ہو گی تو بچہ خود بخود جائے نماز پر آجائے گا ور اس کے ساتھ رکوع اور سجود کرنا سیکھ لے گا۔ سات سال سے قبل بچے کی ذہنی صلاحیت کے مطابق اسے نماز ادا کرنے کا عملی طریقہ سکھایا جائے۔ وضو کرنا،کھڑ اہونا،رکوع سجدہ کرنا،بیٹھنے کا طریقہ بتا یا جائے۔سات سال کا ہوتے ہی ایک نماز سے آغاز کروایا جائے اور بتدریج بڑھاتے چلے جائیںیہاں تک کہ دس سال کی عمر تک بچہ پانچوں نمازیں ادا کرنے کے قابل ہو جائے۔اس کے لیے اللہ سے خاص دعابھی مانگی جائے۔
۱۱۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچے اور بچیوں کے اندر حیا کو بڑھانے کی طرف توجہ دی جائے۔ لباس کی اصلاح کرنا ماں کی ذمہ داری ہے۔حیا کے تقاضوں کا خیال رکھنے،لڑکوں کو گھٹنے سے اوپر لباس نہ پہننے،لڑکیوں کو سینہ اور سر ڈھانکنے کی تربیت دی جائے تاکہ بلوغت کے بعد ستر اورحجاب کے احکامات پر عمل کرنے میں انہیں کسی مشکل یا تنگی کا سامنا نہ ہو۔

آخری بات

عن مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزنِيَّ رضي الله عنه قال سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ” .سیدنا معقل بن یسارمزنی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا : ( اللہ تعالی نے جسے بھی کچھ لوگوں پر حاکم ،نگران بنایا اوراس نے اپنی رعایا کودھوکہ دیا اوراسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالی نے اس پر جنت حرام کردی )صحیح بخاری کتاب الامارۃ حدیث نمبر ( 7151 ) صحیح مسلم کتاب الامارۃ حديث نمبر ( 142 )
اور ہر آدمی اپنے اہل و عیال کا نگران و حاکم ہے اس پر اپنے گھروالوں کے بارہ میں عظیم مسؤلیت اورذمہ داری ہے اس پر ضروری ہے کہ ان کے بارہ میں اللہ تعالی کا تقوی اورڈر اختیار کرے اوراسے صحیح طریقہ پر سرانجام دے جس طرح کہ اس کا حق ہے اوراس کے ساتھ ساتھ اسے اپنےاوراہل وعیال کے لیے دعا بھی کرتے رہنے چاہیے کہ اللہ تعالی انہیں ھدایت اورتوفیق سے نواز ے ۔

DiscoverIslamNp

DiscoverIslamNP is specifically for Islamic education. The best way to provide authentic Islamic education through DiscoverIslamNP is to adapt to the will of Islam. The main goal of this site is to quench the thirst for Islamic knowledge and offer the right solution to various religious Problems.

Leave a Reply