بدعات و خرافات

سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدار ِنجات ہے اور بدعت گمراہی ہے۔تشریح

قرآن وسنت میں بدعت کی تعریف اور اس کا حکم

بدعت کے لغوی معنی

امام لغت علامہ ابو الفتح ناصر فرماتے ہیں:”البدعة اسم من ابتدع الامر اذا ابتدأ واحدثہ’’ ۔ (المغرب فی ترتیب المعرب: ۱/۲۶۔)بدعت کے معنی ہیں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا۔اس سے معلوم ہوا کہ عربی میں ہر نئی چیز کو بدعت کہتے ہیں۔
بدعت کی شرعی تعریف

”وہی الامر المحدث الذی لم یکن علیہ الصحابة والتابعون ولم یکن مما اقتضاہ الدلیل الشرعی“۔ (کتاب التعریفات: ۱/۳۳۔ط: دار المنار)
بدعت ایسا نیا طریقہ ہے جس پر نہ صحابہ کرام اور نہ ہی تابعین نے عمل کیا ہو اور نہ ہی اس پر کوئی شرعی دلیل ہو“۔

علامہ شامی بدعت کی تشریح ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:

”ما احدث علی خلف الحق المتلقی عن رسول اللہﷺمن علم او عمل او حال بنوع شبہة واستحسان وجعل دیناً قویماً وصراطاً مستقیماً“۔ (رد المحتار کتاب الصلاة ، مطلب: البدعة خمسة اقسام: ۱/۰۶۵، ط:سعید)

بدعت وہ ہے جو ایسے حق کے خلاف ہو جس کی تلقین آپ ﷺنے کی ہے،چاہے وہ عقیدہ ہو، عمل ہو یا حال ہو، اور اسے اچھا سمجھا جائے اور دین یقین کرلیا جائے۔

علامہ ابو اسحاق الشاطبییوں بدعت کی وضاحت کرتے ہیں:

”فالبدعة عبارة عن طریقة فی الدین مخترعة تضاہی الشریعة یقصد بالسلوک علیہا المبالغة فی التعبد لله سبحانہ“۔ (الاعتصام،الباب الاول فی تعریف البدع:۱/۷۳،ط:دار الفکر)

بدعت دین میں ایسا ایجاد کیا ہوا طریقہ ہے، جو شریعت کے مشابہ ہو اور اس پر عمل کرنے سے مقصود اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مبالغہ ہو“۔

حافظ رجب حنبلی فرماتے ہیں:

”المراد بالبدعة ما احدث ممالا اصل لہ فی الشریعة یدل علیہ وما کان لہ من الشرع یدل علیہ فلیس ببدعة شرعاً وان کان بدعة لغة“۔ (جامع العلوم والحکم، :۱۴۲۳)

بدعت سے مراد وہ چیز ہے جس کی شریعت میں کوئی دلیل نہ ہو جو اس پر دلالت کرے اور وہ چیز جس کی شریعت میں کوئی اصل ہو اور وہ اس پر دال ہو تو وہ شرعاً بدعت نہیں ہے ،اگرچہ لغة وہ بدعت ہے۔

خلاصہ:

یہ ہے کہ کوئی ایسا نظریہ، طریقہ یا عمل ایجاد کرنا، یا اس پر عمل کرنا بدعت ہے جو آپﷺ سے نہ قولاً نہ فعلاً، نہ دلالتاَ، نہ اشارتاََ ثابت ہو، جسے اختیار کرنے والا مخالفت نبوی کی غرض سے بطور ضد وعناد اختیار نہ کرے،بلکہ اسے ایک اچھی بات اور ثواب سمجھ کر اختیار کرے، وہ چیز کسی دینی مقصد کے حصول کے ذریعے یا وسیلے کے طور پر ایجاد نہ کی گئی ہو، بلکہ خود اسی کو دین کی بات اور نیکی سمجھ کر کیا جائے۔)آپ کے مسائل اور ان کا حل:۱/۵۴، ط:مکتبہ لدھیانوی(

بدعت کی تردید قرآن میں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

۱:۔”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“۔ (المائدہ:۳(

آج میں نے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی اور اسلام کو تمہارے لئے بطور دین پسند کیا ہے“۔

اس آیت کریمہ سے واضح ہوگیا کہ اسلام دین کامل ہے، اسلام میں زندگی گزارنے کے جتنے گوشے ممکن ہو سکتے ہیں، ان سب کے لئے کچھ اصول، قوانین اور ضابطے بیان کرکے انسانوں کو نئے طور طریقوں سے بے نیاز کردیا۔

۲:۔”لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة“۔ (الاحزاب:۲۱(

تمہارے لئے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔

معلوم ہوا کہ زندگی گزارنے کا ہر ہر گوشہ اور ہر ہر شعبہ اگر اسوہٴ رسول کے مطابق ہوگا تو وہ دین ہے اور اگر کوئی شخص عبادت ونیکی اور ثواب کا کوئی ایسا کام کرے گا جس کا وجودو ثبوت نہ آنحضرت ﷺسے ہے اور نہ ہی صحابہ کرام سے ہے تو وہ بدعت ہے۔

بدعت کی مذمت احادیث میں

آپ ﷺنے شرک کے بعد جس طرح بدعت اور بدعتی کی مذمت فرمائی ہے، شاید ہی کسی اور چیز کی ایسی مذمت فرمائی ہو، وجہ یہی ہے کہ بدعت سے دین کا اصلی حلیہ اور صحیح نقشہ بدل جاتا ہے۔

حضور کریمﷺکے چند ارشادات سے بدعت سے حضورﷺ کی نفرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
۱:-حضرت عبد اللہ بن عباس  فرماتے ہیں کہ حضور انے فرمایا:

”ابی الله ان یقبل عمل صاحب بدعة حتی ید ع بدعتہ“ (سنن ابن ماجة، ، رقم الحدیث:۰۵)

اللہ تعالیٰ نے بدعتی کے عمل کو قبول کرنے سے انکار فرمادیا ہے جب تک وہ بدعت کو نہ چھوڑ دے“۔
۲:-حضرت علی  روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا:

”من احدث فیہا حدیثاً او اٰوٰی محدثاًفعلیہ لعنة الله والملائکة والناس اجمعین“۔ (جامع البخاری،رقم الحدیث:۰۷۸۱)

جس کسی نے مدینہ طیبہ میں بدعت اختیار کی یا کسی بدعتی کو ٹھکانا دیا تو اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہو۔

وضاحت:

بدعت جہاں بھی ہو وہ بدعت ہے، ہاں مدینہ طیبہ میں اس کا گناہ زیادہ ہے، اس لئے کہ وہ منبع رشد وہدایت ہے۔
۳:-حضرت ابراہیم بن میسرہ حضور کریمﷺ سے مرسلاً روایت کرتے ہیں:

”من وقر صاحب بدعة فقد اعان علی ہدم الاسلام“۔ (الجامع الصغیر، رقم الحدیث:۲۸۰۹)

جس نے بدعتی کی توقیر کی اس نے اسلام کے گرانے میں مدد کی۔

۴:-حضرت انس آپ سے نقل کرتے ہیں:

”ان الله حجب التوبة عن کل صاحب بدعة“۔ (مجمع الزوائد، : ۰۱/۹۸۱،ط: )

ترجمہ:․․”اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند کردیا ہے“۔

اس صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ بدعت ایسی قبیح ، بری اور منحوس چیز ہے کہ انسان کے دل میں فطری طور پر جو نورانیت اور صلاحیت ہوتی ہے، بدعت اس کو بھی ختم کردیتی ہے اور اس کی نحوست کا یہ اثر ہوتا ہے کہ توبہ کی توفیق ہی نہیں ہوتی ۔ اور عقلی طور پر بھی یہ بات بالکل درست ہے ،اس لئے کہ جب بدعتی بدعت کو کار ثواب سمجھ کر کرتا ہے تو اس سے وہ توبہ کیوں کرے گا؟ توبہ تو گناہوں سے کی جاتی ہے ،نہ کہ ”نیکیوں“ سے۔
۵:-حضورﷺ کا یہ بھی فرمان ہے:

”من احدث فی امرنا ہذا ما لیس فیہ فہو رد“۔ (جامع البخاری، رقم الحدیث:۷۹۶۲)

جس نے دین میں ایسی بات نکالی جو دین میں نہیں، وہ مردود ہے۔

اگرچہ حضورﷺ سے بدعت کی تردید میں اور بھی ارشادات منقول ہیں مگر اختصار کی خاطر ان ہی پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔

بدعت کی شناعت صحابہ کرام کی نظر میں:

یہی وجہ تھی کہ صحابہ کرام کو بدعت اور اہل بدعت سے انتہائی نفرت تھی،چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر  کے پاس ایک شخص کسی کا سلام لایا تو آپ نے فرمایا:

”انہ بلغنی انہ قد احدث فان کان قد احدث فلاتقرئہ منی السلام“۔ (جامع الترمذی، ر، رقم الحدیث:۲۵۱۲)

مجھے سلام بھیجنے والے کی شکایت پہنچی ہے کہ اس نے کوئی بدعت اختیار کی ہے، اگر واقعی اس نے ایسا کیا ہے تو میرا سلام ا س کو نہ دینا۔
جماعت صحابہ کرامکے ایک فرد حضرت عبد اللہ بن مغفل  صحابہ کرام کے بارے میں فرماتے ہیں:

”لم ار احداً من اصحاب رسول الله ا کان ابغض الیہ من الحدیث“۔ (جامع الترمذی:۱/۳۳ ،ط: سعید)

میں نے اصحاب رسولﷺ میں سے کسی کو ایسا نہیں دیکھا کہ وہ بدعت سے زیادہ کسی اور چیزکو ناپسند کرتا ہو“۔

حضرت حسانؓفرماتے ہیں:

”ما ابتدع قوم بدعة فی دینہم الا نزع الله من سنتہم مثلہا“۔(سنن الدارمی، المقدمة، باب اتباع السنة رقم لحدیث:۹۹)

جب کوئی قوم اپنے دین میں کوئی بدعت گھڑ لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسی کے بقدر سنت اس سے چھین لیتے ہیں اور قیامت تک (بغیر توبہ) اسے اس کی طرف نہیں لوٹاتے ہیں۔

بدعات کی پہچان

ہمارے معاشرے میں رائج بدعات کی فہرست طویل ہے اور جہالت کی وجہ سے طویل تر ہورہی ہے، اعتقادی بدعات تو کفر کی سرحد کے قریب کردیتی ہیں ،جب کہ عملی بدعات گناہ کبیرہ ہیں۔ ان سب بدعات کا احاطہ کرنا تو مشکل ہے ،البتہ بدعت کی چند علامات کاذکر کرنا مقصود ہے۔

علامت:۱

بدعت ہر زمانے میں بدلتی رہتی ہے جب کہ سنت ہر جگہ اور ہرزمانے میں یکساں رہتی ہے۔

علامت:۲

جو عبادتیں انفرادی طورپر ثابت ہوں، ان کو اجتماعی طور پر کرنا بدعت ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں حضرت عروة بن زبیر  کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر  حضرت عائشہ  کے حجرے کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ مسجد میں چاشت کی نماز باجماعت پڑھ رہے ہیں، ہم نے حضرت سے ان لوگوں کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”بدعت“ ہے۔ (صحیح مسلم،حدیث:۱۲۵۵)
آپ کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ چاشت کی نماز جو اکیلے اکیلے ، فرداً فرداً پڑھی جاتی ہے اس کو اجتماعی طور سے باجماعت پڑھنا بدعت ہے نہ کہ اصل چاشت کی نماز بدعت ہے ،کیونکہ چاشت کی نمازتو احادیث سے ثابت ہے۔ (شرح النووی:۱/۴۰۹)

موجودہ دور میں اس کی مثال سنتوں کے بعد امام اور مقتدیوں کا مل کر اجتماعی دعا مانگنے کا التزام ہے، یہ یقینا بدعت ہے، کیونکہ حضور کریم ﷺاور صحابہ کرام سے اس موقع پر دعائیں مانگنا تو ثابت ہے لیکن اجتماعی طور پر نہیں بلکہ انفرادی طور پر۔اسی طرح شب قدر اور دوسری مبارک راتوں میں عبادت کرنا بہت بڑی سعادت ہے اور اس کااہتمام بھی کرنا چاہئے لیکن چند سالوں سے کچھ علاقوں میں مساجد میں صلوٰة التسبیح کو باجماعت ادا کرنے کا رواج شروع ہوگیا ہے جو یقینا قابل ترک ہے، کیونکہ صلوٰة التسبیح کا تو حضور ﷺاور صحابہ کرام سے انفرادی طورپر پڑھنا ثابت ہے نہ کہ باجماعت ۔اگر باجماعت پڑھنے میں کوئی خیر ہوتی تو ایک دفعہ تو آپ بھی پڑھتے، کیونکہ آپ سب سے زیادہ علم بھی رکھنے والے تھے اور نیکی کے حریص بھی تھے۔

علامت:۳

جو سنت آہستہ کرنی ثابت ہو اس کو زور سے ادا کرنا بدعت ہے۔ مثلاً: درود شریف پڑھنے کی بہت سی روایات میں ترغیب آئی ہے اور مختلف مقداروں پر بڑے بڑے اجر کا وعدہ مخبر صادق نے بتایا ہے، لیکن اس کے پڑھنے کا سنت طریقہ انفرادی اور آہستہ آواز میں ہے نہ کہ بلند آواز سے۔علامہ شامی اس سلسلے میں ایک بہت اہم واقعہ نقل کرتے ہیں:

”صح عن ابن مسعودؓانہ اخرج جماعة من المسجد یہللون ویصلون علی النبیﷺجہراً وقال لہم ما اراکم الا مبتدعین“۔ (رد المحتار:۵/۲۸۱)

ترجمہ:․․․” حضرت عبد اللہ بن مسعود سے صحیح روایت سے ثابت ہے کہ انہوں نے ایک جماعت کو مسجد سے محض اس لئے نکال دیا تھا کہ وہ بلند آواز سے ”لا الہ الا اللہ“ اور درود شریف پڑھتے تھے، آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں بدعتی ہی سمجھتا ہوں“۔

اسی وجہ سے فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ جن جن مواقع میں بلند آواز سے ذکر اور دعاء ثابت ہے ،وہاں بلند آواز سے ہی ذکر اور دعاء کرنے سے شریعت کی منشا ٴپوری ہوگی اور جہاں بلند آواز سے دعاء اور ذکر کرنا ثابت نہیں ہے وہاں آہستہ دعاء اور ذکر ہی بہتر اور افضل ہے۔ حضرات صحابہ  اور تابعین کا عمل عمومی طور پر آہستہ آواز سے ذکر پر رہا ہے اور یہی مسلک حضرات ائمہ اربعہ کا ہے۔

علامت:۴

شریعت میں کسی نیک عمل کے لئے کوئی خاص وقت مقرر نہ ہو تو ایسے عمل کو خاص اوقات کے ساتھ خاص کرکے اہتمام والتزام سے ادا کرنا بدعت ہوگا، اسی وجہ سے امام شاطبی فرماتے ہیں:

”ومنہا التزام الکیفیات المعینة والہیئأت المعینة کالذکر بہیئة الاجتماع علی صوت واحد واتخاذ یوم ولادة النبی عیداً“۔(الاعتصام :۱/۳۹)

ترجمہ:۔․”اور بدعات میں سے یہ بھی ہے کہ اعمال میں مخصوص کیفیات اور ہیئات کا التزام کیا جائے، جیسے اجتماعی طور پر ایک آواز سے زور سے ذکر کرنا اور یوم ولادت نبی کو عید قرار دینا یا عید منانا“۔

اسی وجہ سے علامہ شامی فرماتے ہیں:

”وقد صرح بعض علماء نا وغیرہم بکراہة المصافحة المعتادة عقب الصلوٰات مع ان المصافحة سنة وما ذاک الا بکونہا لم توثر فی خصوص ہذا الموضع فالمواظبة علیہا فیہ توہم العوام بانہا سنة فیہ“ (رد المحتار:۲/۲۳۵)

ترجمہ:․․․”علمائے کرام نے نمازوں کے بعد مصافحہ کی عادت بنانے کو صاف طور پر مکروہ فرمایاہے ،باوجود یہ کہ مصافحہ کرنا سنت عمل ہے، اس کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ خاص اس موقع پر (یعنی نمازوں کے بعد) مصافحہ کرنا حضورﷺ اور صحابہ کرام سے منقول نہیں ہے“۔

مطلب یہ ہے کہ ہرمسلمان کے لئے ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرناسنت ہے اور بڑے اجر کا باعث ہے ،اسی طرح اگر کسی سے اتفاقاً نمازوں کے بعد مسجد میں ملاقات ہوجاتی ہے تو اس موقع پر بھی مصافحہ کرنا باعث رضائے الٰہی ہوگا، لیکن بعض دیار میں جو رواج بن گیا ہے کہ جماعت کی نماز کے بعد امام صاحب سے مصافحہ کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے ،گوکہ نماز سے پہلے امام صاحب سے ملاقات بھی ہوگئی ہو، یہ بدعت ہے۔ اسی طرح نماز کے بعد بعض لوگ خصوصیت اور اہتمام سے اپنے دائیں اور بائیں طرف کے مقتدیوں سے مصافحہ کرنے کی عادت بنالیتے ہیں،یہ بھی بدعت ہے۔

علامت:۵

کوئی جائز یا نیک عمل اس طرح سے کیا جائے کہ عبادت پر زیادتی کا خیال ہونے لگے، مثلاً: میت کے لئے دعا مانگنا باعثِ ثواب ہے مگر نمازِ جنازہ کے بعد مکروہ ہے۔حضرت ملاعلی قاری حنفی  فرماتے ہیں:

”ولایدعو للمیت بعد صلوٰة الجنازة لانہ یشبہ الزیادة فی صلاة الجنازة“۔ (مرقاة المفاتیح:۴/۱۷۰)

ترجمہ:․․․”دعاء نہیں مانگیں گے میت کے لئے نمازِجنازہ کے بعد اس لئے کہ اس سے نماز ِ جنازہ پر زیادتی کا شبہ ہوتا ہے“۔

دعاء ہے کہ رب کریم ہمیں امام الانبیاء، سید الرسل، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ،احمد مجتبی ﷺکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہر طرح کی بدعات سے بچائے۔شارح بخاری حضرت علامہ ابن حجر  فرماتے ہیں:

”فالسعید من تمسک بما کان علیہ من السلف واجتنب عن ما احدث۔“ (فتح الباری:۳/۲۱۳)

ترجمہ:․․․”سعادت مندی اس پر موقوف ہے کہ سلفِ صالحین کے طریقے کو اپنایا جائے اور بعد میں آنے والوں نے جو بدعات نکالی ہیں، ان سے بچاجائے“۔بند

بدعت:

محرم میں سوگ اور ماتم کرنا، مہندی نہ لگانا، محرم کے مہینہ میں شادی بیاہ نہ کرنا،غم کے موقع پر چِلّا کر رونا، منہ اور سینہ پیٹنا، بیان کرکے رونا، مخصوص تاریخوں میں پھر غم تازہ کرنا۔تشریح

شرعی اعتبار سے سو گ کرنا صرف چند صورتوں میں عورتوں کے حق میں ثابت ہے اور وہ يہ ہیں:(1)جس عورت کو اس کے شوہر نے طلاق بائن (ایسی طلاق جس میں نکاح ختم ہوجاتا ہے) دیدی ہو اس پرعدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے ۔عدت ختم ہونے کے بعد واجب نہیں بلکہ جائز بھی نہیں۔(2)جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو اس پر عدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے عدت کے بعد واجب نہیں بلکہ جائز بھی نہیں ۔(3)شوہر کے علاوہ کسی قریبی رشتہ دار(باپ بيٹے وغیرہ) کے فوت ہونے پر صرف تین دن تک عورت کو سوگ کرنے کی اجازت ہے واجب اور ضروری نہیں ،تین دن کے بعد يہ اجازت بھی نہیں۔اس کے علاوہ اورکسی موقعہ پر عورت کو سوگ کرنے کی اجازت نہیں اورمرد کو تو سوگ کرنا کسی حال میں بھی جائز نہیں اور شرعی سوگ کاطریقہ يہ ہے کہ عورت اتنے عرصہ میں ایسے کپڑے نہ پہننے اور ایسا رنگ ڈھنگ اختیار نہ کرے جس سے مردوں کو کشش اور میلان ہوتا ہو۔ خوشبو ، سرمہ، مہندی اور دوسری زیب و زینت اور بناؤ سنگھار کی چیزیں چھوڑدے۔ اس کے علاوہ اپنی طرف سے سوگ کے طریقے اختیار کرنا جائز نہیں مثلاً غم کے اظہار کےلئے مخصوص رنگوں کے (مثلا کالے) کپڑے پہننا وغیرہ۔

حدیث: حضرت ام سلمہؓ حضور اکرمﷺنے نقل کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس عورت کا شوہر وفات پاگیا وہ عدت گزرنے تک عصفر سے رنگا ہوا اور خوشبو والی مٹی سے رنگا ہوا کپڑا اور خضاب بھی نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے۔ (مشکوة ص289بحوالہ ابوداود، نسائی )

حدیث: حضرت ابو سلمہؓ کی صاحبزادی حضرت زینت ؓ نے بیان فرمایا کہ جب ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کو(ان کے والد) حضرت ابو سفیانؓ کی موت کی خبر پہنچی تو انہوں نے تیسرے دن خوشبو منگائی جو زردرنگ کی تھی اور اپنے بازروں اور رخساروں پر ملی اور فرمایاکہ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی (لیکن اس ڈر سے کہ کہیں میں تین دن سے زیادہ سوگ کرنے والی عورتوں میں شمار نہ ہو جاﺅں میں خوشبو لگائی ) میں نبی کریمﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا ہے کہ ” ایسی عورت کے لئے جو اﷲ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو يہ حلال نہیں ہے (کسی کے فوت ہونے پر) تین دن رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ اس (کی موت ہو جانے) پر چار مہینہ دس دن سوگ کرے ۔( صحيح مسلم)

کیا محرم غم کا مہینہ ہے؟

بعض نا واقف لوگ ایسے بھی ہیں محرم کے مہینے کو رنج وغم کا مہینہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مہینہ میں کربلا کا سانحہ پیش آیا تھا جس میں حضرت حسین ؓاور دوسری عظیم ہستیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا تھا لہٰذا يہ مہینہ غم کا ہے اور اسی وجہ سے يہ لوگ اس مہینے میں خوشی کے کام (شادی بیاہ وغیرہ) انجام دينے سے پرہیز کرتے ہیں اور بعض لوگ خوشی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے مختلف قسم کے سوگ کرتے ہیں (مثلاً کالا لباس پہننا، عورتوں کا زیب وزینت اور بناﺅ سنگھار چھوڑ دینا، میاں بیوی کے خصوصی تعلقات سے رکے رہنا، مرثيے پڑھنا، نوحہ ، ماتم کرنا وغیرہ وغیرہ) اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو يہ سمجھ لینا چاہیے کہ يہ خیال بالکل غلط ہے کہ يہ مہینہ غمی کا ہے کیونکہ يہ مہینہ تو بہت محترم اور فضلیت بلکہ عبادت والا مہینہ ہے اور دس محرم کے دن، تاریخ اسلام کے بہت بڑے عظیم اور خوشگوار واقعات رونما ہوئے ہیں اور دوسری بات يہ ہے کہ غمی کا واقعہ پیش آنے سے وہ مہینہ یا دن غم کےلئے مخصوص نہیں ہو جاتا کہ اس میں ہمیشہ غم کیاجاتا رہے اور صدییاں گزرنے کے باوجود اس کو غم کا مہینہ بنائے رکھنا تو بہت بڑی حماقت ہے ۔۔

نبی کریمﷺسے مروی ہے کہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں کہ بنی آدم مجھے ایذاء دیتا ہے ( یعنی میری شان کے خلاف بات کہتا ہے اور وہ اس طرح) کہ وہ زمانہ و برا بھلا کہتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں (یعنی زمانہ ميرے تابع اور ماتحت ہے) میرے قبضہ قدرت میں تمام حالات اور زمانے ہیں میں ہی رات ودن کو پلٹتا(کم زیادہ کرتا) ہوں ۔

(بخاری، مسلم، ابو داود، موطا امام مالک، مشکوة ص13)

زمانہ بذات خودکوئی چیز نہیں وہ تو اﷲ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آیا ہے اوراسی کے حکم سے چلتا ہے، نحوست اگر ہے تو انسان کی بد اعمالیوں یا اپنے خیالات کی بنیاد پر ہے ۔ اول محرم کا مہینہ خود فضلیت والا مہینہ ہےاوراس میں کوئی نحوست نہیں ہے دوسرے حضر حسین ؓ کی شہادت کی وجہ سے اس مہینہ کو غمی یا نحوست کا مہینہ سمجھنے سے يہ لازم آتا ہے کہ نعوذ باﷲ شہادت کوئی بری یا منحوس چیز ہے جبکہ شرعی اعتبار سے شہادت ايک عظیم سعادت والا عمل ہے جو ہرکس وناکس کو بآسانی میسر نہیں آتا، اور شہادت ایسی عظیم سعادت اور دولت ہے جس کی تمنا خود اپنے لئے محمد مصطفےٰﷺ نے بھی کی ہے اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی ہے اور شہید کے لئے بڑے اجروانعام ، اعزاز و اکرام اور بےشمار نعمتوں کی خوشخبری سنائی ہے ۔

آیت: ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات، بل احیاءولکن لا تشعرون (البقرہ) آیت: ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا، بل احیاءعند ربھم یرزقون۔ فرحین بما اتا ہم اﷲ من فضلہ۔(آل عمران)حدیث: لوددت انی اعزوفی سبیل اﷲ فاقتل ثم اغزو فاقتل ثم اغرو فاقتل (بخاری فی الجہاد، مسلم فی الا مارة، نسائی فی الجھاد، ابن ماجہ فی الجہاد، مسند احمد ، دارمی فی الجہادو موطا امام مالک فی الجہاد)۔.بند

بدعت:

ماہ صفر کو منحوس سمجھنا، بدشگونی کا عقیدہ رکھنا،ماہ صفر کے آخری چہارشنبہ کو خوشی منانا۔تشریح

اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ‘‘صَفَرُ المُظَفَّر’’ہے،یہ مہینہ انسانیت میں زمانہ جاہلیت سے ہی منحوس، آسمانوں سے بلائیں اترنے والا اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ سمجھا جاتا ہے،زمانہٴ جاہلیت کے لوگ اس ماہ میں خوشی کی تقریبات (شادی ، بیاہ اور ختنہ وغیرہ )قائم کرنا منحوس سمجھتے تھے اور قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ یہی نظریہ نسل در نسل آج تک چلا آرہا ہے؛ حالاں کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے علاوہ پائے جانے والے توہمات اور قیامت تک کے باطل نظریات کی تردیداور نفی فرما دی اور علی الاِعلان ارشاد فرما دیا کہ:(اللہ تعالی کے حکم کے بغیر) ایک شخص کی بیماری کے دوسرے کو (خود بخود)لگ جانے(کا عقیدہ) ، ماہِ صفر (میں نحوست ہونے کا عقیدہ) اور ایک مخصوص پرندے کی بد شگونی (کا عقیدہ) سب بے حقیقت باتیں ہیں۔ملاحظہ ہو: عَنْ أبي ھُرَیْرَةَ رضي اللّٰہُ عنہ قال: قال النبيُّﷺ:”لا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا ھَامَةَ“․ (صحیح البخاري،کتابُ الطِّب،بابُ الھامة، رقم الحدیث: 5770، المکتبة السلفیة)

آخری چہارشنبہ

ماہِ صفر المظفرکو منحوس سمجھنا خلافِ اسلام عقیدہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے، اس ماہِ مبارک میں نہ تو آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور نہ اس کے آخری بدھ کو اوپر جاتی ہیں اور نہ ہی امامُ الانبیاء جنابِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن مرض سے شفاء یابی ہوئی تھی؛ بلکہ موٴرخین نے لکھا ہے کہ ۲۸/ صفر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے، مفتی عبدالرحیم فرماتے ہیں: ”مسلمانوں کے لیے آخری چہار شنبہ کے طور پر خوشی کا دن منانا جائز نہیں۔”شمس التواریخ“وغیرہ میں ہے کہ ۲۶/صفر ۱۱ھ دو شنبہ کو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا اور ۲۷/صفر سہ شنبہ کو اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ امیرِلشکر مقرر کیے گئے، ۲۸/صفر چہار شنبہ کو اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوچکے تھے؛ لیکن اپنے ہاتھ سے نشان تیار کر کے اُسامہ کو دیا تھا،ابھی (لشکر کے)کوچ کی نوبت نہیں آئی تھی کہ آخر چہار شنبہ اور پنج شنبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت خوفناک ہوگئی اور ایک تہلکہ سا مچ گیا، اسی دن عشاء سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے پر مقرر فرمایا۔ (شمس التواریخ:2/1008)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ۲۸/ صفر کو چہار شنبہ (بدھ) کے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں زیادتی ہوئی تھی اور یہ دن ماہِ صفر کا آخری چہار شنبہ تھا، یہ دن مسلمانوں کے لیے تو خوشی کا ہے ہی نہیں؛ البتہ یہود وغیرہ کے لیے شادمانی کا دن ہو سکتا ہے، اس روز کو تہوار کا دن ٹھہرانا، خوشیاں منانا، مدارس وغیرہ میں تعطیل کرنا، یہ تمام باتیں خلافِ شرع اور ناجائز ہیں“۔(فتاویٰ حقانیہ،کتاب البدعة والرسوم :2/84،جامعہ دارالعلوم حقانیہ ،اکوڑہ خٹک ، وکذا فی فتاویٰ رحیمیہ،ما یتعلق بالسنة والبدعة: 2/68،69،دارالاشاعت)۔ بند

بدعت:

ماہ ربیع الاول میں جشن عیدمیلاد منانا،میلاد کا جلوس نکال کر راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، جلوس میں ناچنا،گانوں کےطرز پر نعتیں پڑھنا، مکہ اور مدینہ کی شبیہہ بنانا،جلوس کی وجہ سے نمازوں کو ضائع کرناوغیرہ۔تشریح

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمدﷺ کے ساتھ عشق ومحبت عین ایمان ہے اور آپ کی ولادت سے وفات تک زندگی کے ہر لمحہ کے (صحیح سند کے ساتھ مروی) حالات وواقعات اور آپ کے اقوال وافعال کو پیش کرنا، سننا اور سنانا باعثِ نزول رحمت خداوندی ہے اور ہر مسلمان کا فریضہ ہے، لیکن ربیع الاول کی بارھویں تاریخ مقرر کرکے اس میں میلاد منانا، محفل اور مجلسیں منعقد کرنا، جلوس نکالنا یا فقراء کو کھانا کھلانا، جب حضورﷺ سے تئیس سالہ دور نبوت میں، خلفاء راشدین سے ان کے تیس سالہ عہد خلافت میں صحابہ کرام سے ۱۱۰ھ تک اور تابعین وتبع تابعین سے ۲۲۰ھ تک ثابت نہیں ہے تو اس میں کیسے ثواب ہوسکتا ہے؟ کیا ہمیں ان سے زیادہ حضورﷺ سے محبت ہے؟علامہ ابن امیر الحاج  فرماتے ہیں:

”فان خلا منہ وعمل طعاماً فقط ونویٰ بہ المولود ودعا الیہ الاخوان وسلم من کل ما تقدم ذکرہ فہو بدعة بنفس نیتہ فقط، لان ذلک زیادة فی الدین ولیس من عمل السلف الصالحین واتباع السلف اولیٰ“۔ (المدخل:۲/۳)

ترجمہ:۔․”اگر مجلس میلاد سماع سے پاک ہو اور صرف بہ نیت مولود کھانا تیار کیا جائے اور بھائیوں اور دوستوں کو اس کے لئے بلایا جائے اور تمام مذکورہ بالا مفاسد سے محفوظ ہو، تب بھی وہ صرف نیت (عقد مجلس میلاد) کی وجہ سے بدعت ہے اور دین کے اندر ایک جدید امر کا اضافہ ہے، جو سلف صالحین کے عمل میں نہ تھا ،حالانکہ سلف (یعنی صحابہ وتابعین وتبع تابعین) کے نقش قدم پر چلنا ہی بہتر ہے“۔

جشن عید ميلاد النبى كا حكم

درحقیقت ربيع الاول كے مہينہ ميں جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم دین اسلام کی تکمیل کے بعد کچھ لوگوں کی ایجاد کرده بدعتوں میں سے ایک بدعت ہے ، اور دين اسلام ميں ايک نئى ايجاد ہے ، كيونكہ يہ نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ميں سے ہے ، اور نہ ہى رسول الله صلى اللہ عليہ وسلم كے خلفاء راشدين كى سنت ہے ، اور نہ صحابہ کرام میں سے کسی صحابی سے اور نہ کسی تابعی یا تبع تابعی سے ثابت ہے ، اور جو اس طرح كا كام ہو يعنى نہ تو رسول الله صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ہو ، اور نہ ہى خلفاء راشدین كى سنت ہو ، اور نہ کسی صحابی سے اور نہ کسی تابعی یا تبع تابعی سے ثابت ہو تو وہ بدعت اور ممنوع ہے ، اور ميلاد كا یہ جشن منانا دين ميں ایک نيا كام ہے ، جو فاطمى شيعوں نے مسلمانوں كے دين كو خراب كرنے اور اس ميں فساد پهیلانے كے ليے پہلے خیرالقرون كے بعد ايجاد كيا ، اور تاریخ اسلام کی مکمل چھ صدیاں اس طرح گذریں کہ ان میں ربیع الاول کے جلوس اور جشن میلاد کا نام ونشان نہیں ملتا ، اور پهر چهٹی صدی کے آخر میں اربل كے بادشاہ مظفر نے بڑے منظم طریقہ سے اس کو منانا شروع کیا ۔

ولادت مبارکہ کے دن عید منائیں یا روزہ رکھیں؟

مسلم شریف میں حضرت أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ : رسول الله صلى الله عليہ و سلم سے پیر کے دن کے روزه کے بارے پوچها گیا ؟ تو آپ صلى الله عليہ و سلم نے فرمایا کہ : یہی میری میلاد کا دن ہے ، اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل ہوا . عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليہ وسلم سئل عن صوم الاثنين فقال : فيه ولدتُ وفيه أُنزل عَليَّ . رواه مسلم ۔اور ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ میں حضرت عائشہ رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ : رسول الله صلى اللہ عليہ وسلم پیر اور جمعرات كا روزہ ركھنا تلاش كرتے تھے . وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان النبي صلى الله عليہ وسلم يتحرى صوم الاثنين والخميس . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه۔اور سنن ترمذى میں حضرت ابو ہريرہ رضى اللہ عنہ کی روایت ہے كہ : رسول الله صلى اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا کہ : پیر اور جمعرات كو اعمال پيش كيے جاتے ہيں، لہذا ميں چاہتا ہوں كہ ميرے اعمال پیش ہوں تو ميں روزے كى حالت ميں ہوں . وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليہ وسلم قال : تُعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس ، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم . رواه الترمذي ۔لہذا ان روایات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ رسول الله صلى الله عليہ وسلم کی ولادت مبارکہ کا دن پیر ہے ، اور یہ بهی معلوم ہوا کہ آپ پیر کے دن روزه رکهتے تهے ، اور صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر بن الخطاب رضي الله عنہ کی روایت میں ہے کہ : رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے دونوں عیدوں کو روزه رکهنے کی ممانعت کی ہے ، عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال هذان يومان نهى رسول الله صلى الله عليہ وسلم عن صيامهما الحدیث . صحيح البخاري . اور تمام اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ عید الفطر اور عید الأضحى کے دن روزه رکهنا حرام ہے ۔لہذا یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ اگر رسول الله صلى الله عليہ و سلم کی ولادت کا دن عید کا دن ہوتا تو آپ اس دن روزه رکهنے کی وصیت نہ کرتے ۔نیز آپ کی ولادت مبارکہ کی تاریخ میں أهل علم کا اختلاف ہے ۔

جشنِ عید میلاد النبیﷺمیں کیا کیا ہو رہا ہے؟ ایک جائزہ:

٭…بارہ ربیع الاوّل سے چند دِن پہلے ہی گھروں، گلیوں، بازاروں، مسجدوں، عمارتوں اور شاہراؤں وغیرہ کو رنگ برنگی روشنیوں اور جھنڈیوں سے سجا دیا جاتا ہے، اگر یہ اتنا اہم کام تھا تو صحابہ جیسے عاشق رسولﷺکیوں پیچھے رہے؟ اگر اُس زمانے میں بجلی نہ تھی تو کیا چراغ جلانے کے لیے تیل بھی دستیاب نہ تھا؟ وہ یہ فضول خرچی اور اسراف نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے دِلوں میں اتباعِ سنت کے نور سے چراغ جلاتے تھے۔

٭…اس دِن کھانے پینے کی مختلف اشیاء تقسیم کی جاتیں ہیں، دیگیں چڑھائی جاتی ہیں،رزق کی ناقدری کی جاتی ہے یعنی کھانے پینے کی اشیاء کو تفریح کرتے ہوئے ضائع کیا جاتا ہے۔

٭…باطل فرقوں کی دیکھا دیکھی خانہ کعبہ کی شبیھیں بنائی جا رہی ہیں، گنبدِ خضراء کی شبیھیں بنائی جا رہی ہیں۔ کوئی برکت حاصل کرنے کے لیے ہاتھ لگا رہا ہے، کوئی عقیدت میں چوم رہا ہے، کوئی محبت میں طواف کر رہا ہے، کوئی یادگاری تصاویر بنا رہا ہے، کوئی ویڈیو ریکارڈنگ میں مشغول ہے۔ ہائے افسوس! جس جاہلیت اور شرک کو مٹانے سرکارِ دو عالمﷺدُنیا میں تشریف لائے تھے آج پھر اُنھی چیزوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور پھر ستم یہ کہ یہ سب کچھ نبی پاکﷺکے نام پر ہو رہا ہے۔

٭…جلوس زور و شور سے نکل رہے ہیں،راستہ چلنے والوں کے لئے تکلیف کا باعث بن رہے ہیں۔ اور پھر ان جلوس میں جو کچھ ہوتا ہے ناقابلِ بیان ہے۔

٭…ان جلسوں، محفلوں اور جلوسوں میں نمازوں کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا، نمازیں قضاء ہو رہی ہیں مگر کچھ فکر نہیں۔ نماز جو فرضِ عین ہے یومِ محشر میں سب سے پہلے جس کے متعلق سوال ہو گا، افسوس! اُس کو پش پشت کیے عشقِ رسولﷺکے نعرے لگا رہے ہیں۔ ایسا عشق ہرگز قبول نہیں جو احکامِ دین کو پامال کر کے کیا جا رہا ہے۔

٭…آج گانوں اور نعتوں میں فرق ہی مٹتا جا رہا ہے، گانوں کی طرز پر نعتیں پڑھی جا رہی ہیں، ہارمونیم بج رہا ہے، مرد و خواتین مل کے نعتیں پڑھ رہے ہیں، قوالیاں ہو رہی ہیں۔ گلیوں، محلوں اورشاہراؤں میں بڑے بڑے اسپیکر لگا کے نعتیں لگائے سمجھ رہے ہیں کہ ہم عشقِ رسولﷺکا حق ادا کر رہے ہیں۔ آہ! نبی کریمﷺکے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے؟آج اگر کوئی کافر حضور اقدسﷺکی شان میں پڑھے اشعار کو گانوں کی طرز پر موسیقی کے ساتھ پڑھے تو مسلمان سراپا احتجاج بن جاتے ہیں اور ناجانے کیا کچھ کیا جاتا ہے، مگر افسوس! یہ اپنے ہی ہاتھوں جو گستاخیاں اور بے ادبیاں ہو رہی ہیں یہ کیوں نظر نہیں آ رہی؟ اذان ہو رہی ہے مگر اسپیکر بند نہیں کیے جا رہے، یہ کیسا احترام ہے؟

٭…پیارے نبیﷺکی پیاری سنتوں کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے، ڈاڑھیاں (جو سنت نہیں بلکہ واجب ہے)مونڈی جا رہی ہیں۔ دعویٰ عشق کا ہے تو پھر پیارے نبیﷺکے چہرۂ مبارک سے اتنی نفرت کیوں؟ ہمارے پیارے نبیﷺکے چہرۂ مبارک پر ڈاڑھی تھی، کیا علم نہیں؟ آقاﷺنے ڈاڑھی مونڈھے سفیروں سے چہرۂ انور دوسری جانب کر لیا تھا، اگر حوضِ کوثر پر آقاﷺنے ہمیں پہچاننے سے ہی انکار کر دیا، تو کدھر جائیں گے؟

٭…آج روشن خیال طبقہ کی جانب سےمخلوط محافل کا انتظام کیا جا رہا ہے جس میں مرد و عورتیں اکٹھے بیٹھتے ہیں، ظلم دیکھیے! کہ سیرت النبیﷺکے موضوع پر محفل ہو رہی ہے اوربے پردگی کا گناہ عظیم ہو رہا ہے۔ خواتین پوری طرح آرائش و زیبائش اور سج دھج کے شریک ہوتیں ہیں، افسوس! اس بات پر اُن کے مرد بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ افسوس! تعلیماتِ اسلام کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں، خدا تعالیٰ کے غضب کو دعوت دی جا رہی ہے۔ افسوس! پاکیزہ دین نے عورت کو جو مقام دیا تھا ، خود ہی اپنے ہاتھوں اُس مقام کو کھو دیا۔

٭…محلہ میں کچھ لوگوں نے مل کر میلاد النبیﷺپر ایک جلسہ منعقد کیا جس میں سامعین کی تعداد تو بہت کم ہے لیکن لاؤڈ اسپیکر کی آواز دُور دُور تک گونج رہی ہے، جب تک جلسہ کا اختتام نہیں ہو جاتا آواز یوں ہی گونجتی رہے گی۔قریبی گھروں میں کوئی مریض ہیں بوڑھے ہیں، طلبہ پڑھائی کرنا چاہتے ہیں، کوئی اللہ کا بندہ تلاوتِ کلام اللہ کرنا چاہتا ہے، کوئی آرام کرنا چاہتا ہے، افسوس! اس کا خیال تک نہیں آتا، کیوں؟ ان جلسوں میں ایذائے مسلم کا گناہِ کبیرہ ہو رہا ہے، ہائے افسوس! گناہ کا گناہ ہونے کا احساس ہی ختم ہو گیا۔

٭…ربیع الاوّل میں جشنِ عید میلاد النبیﷺکے پوسٹر اور پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں، دیواروں پر چسپاں کیے جاتے ہیں اور جھنڈیاں جن پر مقدس کلمات لکھے ہوتے ہیں لگائی جاتی ہیں۔ وہ بعد میں ہوا کے ساتھ یا کسی اور وجہ سے جب نیچے زمین پر گرتے ہیں تو لوگوں کے پاؤں سے روند ہوتے ہیں، کیا یہ توہین نہیں؟ کیا ایسی بے ادبی سے آپﷺخوش ہوتے ہوں گے؟ یہ کیسا عشق و محبت ہے؟ کوئی ہندو اور عیسائی ایسی جرأت کرے تو احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں، لیکن اپنے ہاتھوں سے جو گستاخی و بے ادبی کی جا رہی ہے اُس پر یہ خاموشی کیوں؟

دینِ اسلام میں یومِ پیدائش منانے کا کوئی تصور نہیں:

افسوس! ہم لوگوں نے سال میں ایک دِن کو عشقِ رسولﷺکے ساتھ مخصوص کر دیا، اس کو ایک جشن اور تہوار کی شکل دے دی ۔ یاد رکھیے! دین اسلام میں کسی کے یومِ پیدائش منانے کا کوئی تصور نہیں، بلکہ یہ تصور ہمارے یہاں عیسائیوں کے ہاں سے آیا ہے۔ عاشق کا تو ہر دِن عید ہوتا ہے اگر وہ نقشِ قدم نبیﷺپر چل رہا ہے، ذرا دِل پہ ہاتھ رکھ کر سوچو! جس ماہ میں ولادت ہوئی اُسی ماہ میں وفات بھی ہوئی ہے، تو پھر کس بات کی خوشی مناتے ہو؟ جس تاریخ کو تم ولادت کہتے ہو اور خوشی مناتے ہو، اُس کو تاریخ وفات بھی کہا جاتا ہے جب تاریخ متعین نہیں تو پھر تمہاری یہ خوشی کیسی؟ تمہاری خوشی جب قبول ہو گی جب صحابہ کے طریقہ پر ہو گی، ان کے طریقہ کے خلاف تمہاری خوشی قبول نہیں ہو سکتی۔

اس لیے نبی کریمﷺکے یا آپﷺکے علاوہ کسی بھی دوسرے شخص کے یومِ پیدائش پر محفلِ میلاد و عرس منعقد کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ بدعت ہے جو دین میں ایجاد کر لی گئی ہے۔

22 رجب کے کونڈے۔تشریح

یہ رسم 1906ءمیں رام پور ( یوپی بھارت) سے شروع ہوئی ۔ اس کی ابتدا کرنے والا مشہور رافضی بغض امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لاعلاج امیر مینائی تبرائی ملعون ہے ۔ جس نے خاص طو ر پر حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بغض و عناد کی بناءپر اس رسم بد ِ کو جار ی کیا ۔ یہ رسم قبیح 22/ رجب کو پوری کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ سیدنا جعفر صادق کی نیازہے جوان کی ولادت باسعادت پر دی جاتی ہے ۔ حالانکہ 22/ رجب نہ سیدنا جعفر صادق ؒ کا یوم ولادت ہے اور نہ ہی یوم وفات ہے۔ بلکہ یہ دن خال المسلمین کاتب وحی مبین، فاتح شام و روم وافریقہ، امیر المومنین، امام المتقین سیدنا ومولانا ابوعبدالرحمن معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا یوم وفات ہے۔

اس لئے متعصب رافضی امیر مینائی نے سیدنا معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے بغض میں اس رسم کے ذریعہ سے آپ کی وفات پر خوشی منائی۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے سنی بھائی بلا تحقیق رافضی وسبائی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس رسم کو (جوکہ سراسر صحابی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی توہین ہے ) اختیار کر چکے ہیں۔ خصوصاً ہماری مائیں، بہنیں اپنی کم علمی کی وجہ سے اور دیکھا دیکھی اس مرض کا زیادہ شکار ہیں۔ یاد رہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ کی یوم ولادت 8/رمضان المبارک اور وفات 15/ شعبان ہے۔ لہٰذا سیدنا جعفر صادق ؒ کی ولادت یا وفات سے اس غلط رسم کا کوئی تعلق نہیں، یہ محض بعض معاویہ رضی اﷲ عنہ ہے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ سمیت ہر صحابی رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے کسی بھی صحابی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی توہین سے انسان ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔میرے اور آپ کے آقا سید کونین حبیب کبریا حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے میرے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے بارے میں اﷲ سے ڈرو۔ان کو ملامت کا نشانہ نہ بناو۔ جوکوئی میرے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو گالیاں دے۔ اس پر اﷲ کی لعنت، اس پرفرشتوں کی لعنت اور تمام آدمیوں کی لعنت،نہ اس کافرض قبول نہ نفل۔ جو صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کی تعریف کرتا ہے وہ نفاق سے بری ہے اور جو صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کی بے ادبی کرتا ہے وہ بدعتی، منافق، سنت کا مخالف ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوں۔یہاں تک کہ ان سب کو محبوب رکھے اور ان کی طرف دل صاف ہو۔اﷲ تعالیٰ ہم سب مومنین کو محفوظ رکھے اور ان حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی محبت سے ہمارے دلوں کو بھر دے۔ آمین ثم آمین بند

بدعت:

شب معراج کے نام پر رجب کی ستائسویں(۲۷) شب کو جاگنا،۲۷/ رجب کو ہزاری روزہ رکھنا۔تشریح

/رجب کی شب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا ہے کہ یہ شب ِ معراج ہے ، اور اس شب کو بھی اسی طرح گذارنا چاہیے جس طرح شب قدر گذاری جاتی ہے اور جو فضیلت شبِ قدر کی ہے ، کم وبیش شب معراج کی بھی وہی فضیلت سمجھی جاتی ہے؛ بلکہ میں نے تو ایک جگہ یہ لکھا ہوا دیکھا کہ ”شبِ معراج کی فضیلت شبِ قدر سے بھی زیادہ ہے“ اور پھر اس رات میں لوگوں نے نمازوں کے بھی خاص خاص طریقے مشہور کر دئیے کہ اس رات میں اتنی رکعات پڑھی جائیں اور ہر رکعت میں فلاں فلاں سورتیں پڑھی جائیں ، خدا جانے کیا کیا تفصیلات اس نماز کے بارے میں مشہور ہو گئیں ، خوب سمجھ لیجئے:یہ سب بے اصل باتیں ہیں ،شریعت میں ان کی کوئی اصل اور کوئی بنیاد نہیں۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ۲۷/ رجب کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتاکہ یہ وہی رات ہے، جس میں نبی کریمﷺمعراج پر تشریف لے گئے تھے ؛ کیونکہ اس باب میں مختلف روایتیں ہیں ، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب کا ذکر ہے اور بعض روایتوں میں کوئی اور مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتاکہ کون سی رات صحیح معنوں میں معراج کی رات تھی، جس میں آنحضرتﷺمعراج پر تشریف لے گئے تھے اس سے آپ خوداندازہ کر لیں کہ اگر شب معراج بھی شبِ قدر کی طرح کوئی مخصوص عبادت کی رات ہوتی،اور اس کے بارے میں کوئی خاص احکام ہوتے جس طرح شبِ قدر کے بارے میں ہیں، تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا؛لیکن چونکہ شب معراج کی تاریخ محفوظ نہیں تو اب یقینی طور سے ۲۷/رجب کو شبِ معراج قرار دینا درست نہیں اور اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپﷺ۲۷/رجب کو ہی معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے ، جس میں یہ عظیم الشان واقعہ پیش آیااور جس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺکو یہ مقام ِ قرب عطا فرمایا اور اپنی بارگاہ میں حاضری کا شرف بخشا، اور امت کے لیے نمازوں کا تحفہ بھیجا، تو بے شک وہی ایک رات بڑی فضیلت والی تھی ، کسی مسلمان کو اس کی فضیلت میں کیا شبہ ہو سکتا ہے ؟ لیکن یہ فضیلت ہر سال آنے والی ۲۷/رجب کی شب کو حاصل نہیں ۔

پھردوسری بات یہ ہے کہ (بعض روایات کے مطابق)یہ واقعہ معراج سن ۵/ نبوی میں پیش آیا ، یعنی حضورﷺکے نبی بننے کے پانچویں سال یہ شبِ معراج پیش آئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد ۱۸/ سال تک آپﷺنے شبِ معراج کے بارے میں کوئی خاص حکم دیا ہو ، یا اس کو منانے کا حکم دیاہو ، یااس کو منانے کا اہتمام فرمایا ہو ، یا اس کے بارے میں یہ فرمایا ہو کہ اس رات میں شبِ قدر کی طرح جاگنا زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے، نہ تو آپ کا ایسا کو ئی ارشاد ثابت ہے ،اور نہ آپ کے زمانے میں اس رات میں جاگنے کا اہتمام ثابت ہے ، نہ خود آپﷺجاگے اور نہ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تاکید فرمائی اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے طور پر اس کا اہتمام فرمایا۔

پھر سرکارِ دو عالمﷺکے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد تقریباً سو سال تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینا میں موجود رہے ، اس پوری صدی میں کوئی ایک واقعہ ثابت نہیں ہے، جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ۲۷/رجب کو خاص اہتمام کر کے منایا ہو؛ لہٰذا جو چیز حضورِ اکرمﷺنے نہیں کی اور جو چیز آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں کی ، اس کودین کا حصہ قرار دینا ، یا اس کو سنت قراردینا، یا اس کے ساتھ سنت جیسامعاملہ کرنا بدعت ہے، اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں (العیاذ باللہ)حضورﷺسے زیادہ جانتا ہوں کہ کونسی رات زیادہ فضیلت والی ہے، یا کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ مجھے عبادت کا ذوق ہے، اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عمل کیا تو میں اس کو کروں گا تو اس کے برابر کوئی احمق نہیں“(اصلاحی خطبات :۱/۴۸-۵۱،میمن اسلامک پبلشرز)

”حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین رحہم اللہ تعالیٰ اور تبع تابعین رحہم اللہ تعالیٰ دین کو سب سے زیادہ جاننے والے ، دین کو خوب سمجھنے والے ، اور دین پر مکمل طور پر عمل کرنے والے تھے ، اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں ان سے زیادہ دین کو جانتا ہوں ، یا ان سے زیادہ دین کا ذوق رکھنے والا ہوں، یا ان سے زیادہ عبادت گذار ہوں تو حقیقت میں وہ شخص پاگل ہے، وہ دین کی فہم نہیں رکھتا؛ لہٰذا اس رات میں عبادت کے لیے خاص اہتمام کرنا بدعت ہے ، یوں تو ہر رات میں اللہ تعالیٰ جس عبادت کی توفیق دے دیں وہ بہتر ہی بہتر ہے؛لہٰذا آج کی رات بھی جاگ لیں، لیکن اس رات میں اور دوسری راتوں میں کوئی فرق اور نمایاں امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔“(اصلاحی خطبات:۱/۵۱،۵۲، میمن اسلامک پبلشرز)

ہزاری روزہ

عوام میں یہ مشہور ہے کہ ۲۷/ رجب کو روزہ کی بڑی فضیلت ہے؛ حتی کہ اس بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس ایک دن کے روزے کا اجر ایک ہزار روزے کے اجر کے برابر ہے، جس کی بنا پر اسے ”ہزاری روزے “کے نام سے جاناجاتا ہے؛حالانکہ شریعت میں اس روزے کی مذکورہ فضیلت صحیح روایات میں ثابت نہیں ہے،اس بارے میں اکثر روایات موضوع ہیں اور بعض روایات جو موضوع تو نہیں، لیکن شدید ضعیف ہیں، جس کی بنا پر اس دن کے روزے کے سنت ہونے کے اعتقاد یا اس دن کے روزے پر زیادہ ثواب ملنے کے اعتقاد پر روزہ رکھنا جائز نہیں ہے،اس بارے میں اکابرین، علماء امت نے امت کے ایمان و اعمال کی حفاظت کی خاطر راہنمائی کرتے ہوئے فتاوی صادر فرمائے ،جو ذیل میں پیش کئے جارہے ہیں :

”فتاویٰ رشیدیہ “:

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمہ اللہ ماہِ رجب میں ہونے والی ”رسمِ تبارک“ اور ”رجب کے ہزاری روزے“ کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”اِن دونوں امور کاا لتزام نادرست اور بدعت ہے اور وجوہ اِن کے ناجائز ہونے کی (کتاب)اصلاح الرسوم، براہینِ قاطعہ اور اریجہ میں درج ہیں“(فتاویٰ رشیدیہ،ص:۱۴۸،ادارہ اسلامیات)۔

”فتاویٰ محمودیہ“ :

حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:”ماہِ رجب میں تواریخ ِ مذکورہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر بعض روایات وارد ہوئی ہیں ؛ لیکن وہ روایات محدثین کے نزدیک درجہٴ صحت کو نہیں پہنچتیں ، شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ”ما ثبت بالسنة“میں ذکر کیا ہے کہ:”بعض (روایات) بہت ضعیف اور بعض موضوع(من گھڑت)ہیں“۔(فتاویٰ محمودیہ:۳/۲۸۱،جامعہ فاروقیہ،کراچی)

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ ایک اور سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ:”عوام میں ۲۷/ رجب کے متعلق بہت بڑی فضیلت مشہور ہے؛ مگر وہ غلط ہے، اس فضیلت کا اعتقاد بھی غلط ہے، اِس نیت سے روزہ رکھنا بھی غلط ہے،”ما ثبت بالسنة “میں اِ س کی تفصیل موجود ہے۔“(فتاویٰ محمودیہ:۱۰/۲۰۲،جامعہ فاروقیہ،کراچی)

”فتاویٰ دارالعلوم دیوبند“ :

حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:”ستائیسویں رجب کے روزے کو جسے عوام”ہزارہ روزہ“کہتے ہیں اور ہزار روزوں کے برابر اس کا ثواب سمجھتے ہیں ، اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔ “(فتاویٰ دارالعلوم دیو بند مکمل و مدلل:۶/۴۰۶، مکتبہ حقانیہ ، ملتان)

”فتاویٰ رحیمیہ “:

حضرت مولانا مفتی سید عبد الرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ :”ستائیسویں رجب کے بارے میں جو روایات آئی ہیں، وہ موضوع اور ضعیف ہیں ، صحیح او ر قابل ِ اعتماد نہیں؛ لہٰذا ستائیسویں رجب کا روزہ عاشوراء کی طرح مسنون سمجھ کر ہزار روزوں کا ثواب ملے گا، اس اعتقاد سے رکھنا ممنوع ہے“۔(فتاویٰ رحیمیہ :۷/۲۷۴، دارالاشاعت،کراچی)

”بہشتی زیور “:

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (رجب کے چاند کے بارے میں )لکھتے ہیں کہ:”اس کو عام لوگ ”مریم روزہ کا چاند“کہتے ہیں،اور اس کی ستائیس تاریخ میں روزہ رکھنے کو اچھا سمجھتے ہیں کہ ایک روزہ میں ہزار روزوں کا ثواب ملتا ہے، شرع میں اس کی کوئی قوی اصل نہیں ، اگر نفل روزہ رکھنے کو دل چاہے، اختیار ہے، خدا تعالیٰ جتنا چاہیں ثواب دیدیں، اپنی طرف سے ہزار یا لاکھ مقرر نہ سمجھے ، بعضی جگہ اس مہینے میں ”تبارک کی روٹیاں“پکتی ہیں، یہ بھی گھڑی ہوئی بات ہے، شرع میں اس کا کوئی حکم نہیں ، نہ اس پر کوئی ثواب کا وعدہ ہے، اس واسطے ایسے کام کو دین کی بات سمجھنا گناہ ہے“۔(بہشتی زیور:۶/۶۰،دارالاشاعت، کراچی)

”عمدة الفقہ“:

حضرت مولانا سید زوّار حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”ہزاری روزہ یعنی ستائیس رجب المرجب کا روزہ ، عوام میں اس کا بہت ثواب مشہور ہے، بعض احادیثِ موضوعہ (من گھڑت احادیث)میں اس کی فضیلت آئی ہے؛ لیکن صحیح احادیث اور فقہ کی معتبر کتابوں میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے؛ بلکہ بعض روایات میں ممانعت آئی ہے، پس اس کو ضروری اور واجب کی مانند سمجھ کر روزہ رکھنا یا ہزار روزہ کے برابر ثواب سمجھ کر رکھنا بدعت و منع ہے“۔(عمدة الفقہ: ۳/۱۹۵،زوار اکیڈمی)

علامہ شاطبی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے :”کلُّ عبادةٍ لم یَتَعبَّدْھا أصحابُ رسولِ اللّٰہﷺفلا تَعْبُدُوھا“(الاعتصام للشاطبي،باب فی فرق البدع و المصالح المرسلة: ۱/۴۱۱، دارالمعرفة) ترجمہ:”ہر وہ عبادت جسے صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں کیا ،سو تم بھی اسے مت کرو“۔

تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہو ہے کہ : ”وأمّا أھلُ السنةِ والجماعةِ فیقولون فيکلِ فعلٍ و قولٍ لم یثبُت عن الصحابة، ہو بدعةٌ لأنہ لو کان خیراً سبقونا إلیہ، إنہم لم یترکوا خصلةً من خصالِ خیرٍ إلاّ و قد بادَرُوا إلیہا“ (تفسیر ابن کثیر، الأحقاف:۱۱، دارالسلام)

ترجمہ:”اہل سنت والجماعة یہ فرماتے ہیں کہ جو فعل حضرات ِ صحابہ رضوان اللہ علیہم سے ثابت نہ ہو تو اس کا کرنا بدعت ہے کیونکہ اگر وہ اچھا کام ہوتا تو ضرور حضرات ِ صحابہ رضوان اللہ علیہم ہم سے پہلے اُس کام کو کرتے، اِس لیے کہ انہوں نے کسی نیک اور عمدہ خصلت کو تشنہ عمل نہیں چھوڑا بلکہ وہ ہر(نیک ) کام میں سبقت لے گئے“۔

خلاصہ کلام

مندرجہ بالا تفصیل سے ۲۷/ رجب کے روزے کی بے سند و بے بنیادمشہور ہوجانے والی فضیلت کی حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے،کہ اس دن کو خاص فضیلت والا دن سمجھ کر یا خاص عقیدت کے ساتھ مخصوص ثواب کے اعتقاد سے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔اللہ رب العزت محض اپنے فضل وکرم سے صحیح نہج پر اپنے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی اور ان کو اوروں تک پہچانے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔ بند

بدعت:

شب برأت میں آتش بازی کرنا،مردوں کی روحوں کے گھر آنے کا عقیدہ رکھنا۔تشریح

بدعت:

عرس منانا،اولیاءاللہ کی مزاروں کے پاس دھوم دھام سے میلہ کرنا وغیرہ۔تشریح

بزرگانِ دین سے حسن عقیدت اور محبت ”الحب فی الله“ کے موافق افضل ترین اعمال میں داخل ہے، ان کی وفات کے بعد ان کے لئے شرعی قواعد کے تحت ایصال ثواب کرنا اور ان کے رفع درجات کے لئے دعا کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے،کسی بزرگ کی قبر پر حاضر ہوکر دعا کرنا اور سنت کے مطابق سلام کہنا، سب درست اور جائز ہے، خود حضور کریمﷺ ہر سال شہداء کی قبور پر جاتے اور فرماتے: تم پر سلامتی ہو۔ (رد المحتار:۲/۲۴۲)لیکن بزرگوں کی قبور کے لئے دن مقرر کرنا، خصوصاً سال کے بعد جو دن مقرر کیا جاتا ہے ، جس کو عرس کہتے ہیں، بدعت ہے۔ کیونکہ اس میں شریعت کی دی ہوئی آزادی میں اپنی طرف سے قید لگانا ہے۔حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی فرماتے ہیں:”عرس کا دن مقرر کرنا جائز نہیں’’۔ (مسائل اربعین:۱/۴۲)خود نبی کریمﷺکا ارشاد گرامی ہے”لاتجعلوا قبری عیداً’’۔ (سنن ابی داؤد:۲۰۴۶)تم میری قبر کو عید نہ بناؤ۔

علامہ طیبی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:”لاتجتمعوا للزیارة اجتماعکم للعید’’۔ (شرح الطیبی:۲/۳۶۳)تم زیارت کے لئے ایسے جمع نہ ہوں جیسے عید کے لئے جمع ہوتے ہو“۔
جب کہ امام سبکی اسی حدیث کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”ویحتمل ان یکون المراد: لاتتخذوا لہ وقتاً مخصوصاً“۔ (الجنة:۱/۱۳۶)اس کے یہ بھی معنی ہے کہ میری قبرکی زیارت کے لئے وقت مقرر نہ کرو“۔
جب سرکار دو عالمﷺکی قبر مبارک کی زیارت کے لئے دن مقرر کرنا اور اجتماع کرنا ناجائز ہوا، تو کسی امتی کی قبر کے متعلق یہ افعال کرنا کب جائز ہوگا؟

ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’تم میری قبر کو عید نہ بناؤ‘‘۔ (مسند احمد:۳۶۷۔مشکوٰۃ:۱/۸۶)۔اس حدیث کی شرح میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

میں کہتا ہوں کہ آپﷺ نے جو یہ فرمایا کہ ’’میری قبر کی زیارت کو عید نہ بناؤ‘‘، اس میں اشارہ ہے کہ تحریف کا دراوزہ بند کردیا جائے، کیونکہ یہود اور نصاریٰ نے اپنے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں کو حج کی طرح عید اور موسم بنادیا تھا۔ (حجۃ اللہ البالغہ:۱/۲۲)

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ:’’جاہل لوگ حضرات اولیاء، شہداء کے مزارات کے ساتھ جو معاملات کرتے ہیں وہ سب کے سب ناجائز ہیں، یعنی ان کو سجدہ کرنا اور ان کے گرد طواف کرنا اور ان پر چراغاں کرنا اور ان کی طرف سجدے کرنا اور ہر سال میلوں کی طرح ان پر جمع ہونا جس کا نام عرس ہے‘‘۔ (تفسیر مظہری:۲/۶۵)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’بری بدعتوں میں سے یہ ہے کہ لوگوں نے قبور کے بارے میں بہت کچھ اختراع کیا ہے اور قبروں کو میلہ گاہ بنالیا ہے‘‘۔ (تفہیماتِ الہیہ:۲/۶۴) بند

بدعت:

تیجہ، دسواں، بیسواں،چالیسواں اور برسی کرنا،اہل میت کی جانب سے ضیافت کا اہتمام کرنا وغیرہ۔تشریح

کسی میت کے لئے ایصال ثواب کرنا بڑی فضیلت کی چیز ہے، جو شخص کسی مرنے والے کو ایصال ثواب کرے تو اس کو دُگنا ثواب ملتا ہے ، ایک اس عمل کے کرنے کا ثواب اور دوسرے مسلمان کے ساتھ ہمدردی کرنے کا ثواب، لیکن شریعت نے ایصال ثواب کے لئے نہ کوئی طریقہ خاص کیا ہے نہ کوئی دن، بلکہ جس وقت جس نیک عمل کی توفیق ہوجائے ،اس نیک کام کا ایصال ثواب جائزہے۔

لہذا شریعت کی اس صاف وآسان سنت کو چھوڑ کر تیسرے ، دسویں یا چالیسویں دن کو یا ان کے قریب کے ایام میں لوگوں کو اہتمام سے بلاکر ایصال ثواب کرنا اور ایسا نہ کرنے والے کو ملامت کرنا یا اجنبی سمجھنا، دین کے اندر اپنی طرف سے تخصیص پیدا کرنا ہے، لہذا بدعت ہے۔حضرت جریر بن عبد اللہ  فرماتے ہیں:

”کنا نریٰ الاجتماع الی اہل المیت وصنعہ الطعام من النیاحة“۔ (سنن ابن ماجہ:۱/۱۱۶)
ترجمہ:۔”ہم (یعنی حضرات صحابہ کرام)میت کے گھر جمع ہونے اور میت کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے“۔

اس سے معلوم ہوا کہ میت کے گھر اجتماع کرنا اور وہاں کھانا تناول کرنا حضرات صحابہ کرام کے نزدیک نوحہ جیسا ایک جرم تھا اور اس پر سب صحابہ کا اتفاق تھا۔دسویں صدی ہجری کے مشہور فقیہ علامہ حسام الدین علی الحنفی  فرماتے ہیں:

”ان ہذا الاجتماع فی الیوم الثالث خصوصاً لیس فیہ فرضیة ولا فیہ وجوب ولافیہ سنة ولا فیہ استحباب ولا فیہ منفعة ولافیہ مصلحة فی الدین بل فیہ طعن ومذمة وملامة علی السلف حیث لم یبینوا بل علی النبی ا حیث ترک حقوق المیت بل علی الله سبحانہ وتعالیٰ حیث لم یکمل الشریعة وقد قال الله تعالیٰ : ”الیوم اکملت لکم دینکم“۔ (بحوالہ راہ سنت:۱/۱۶)

ترجمہ:․․․”میت کے گھر تیسرے دن کوخاص کرکے جمع ہونا نہ تو فرض ہے، نہ واجب،نہ سنت اور نہ مستجب ۔ نہ تو اس میں کوئی دینی مصلحت ہے اورنہ ہی کوئی دینی فائدہ، بلکہ اس میں تو پچھلے بزرگوں پر اعتراض ہے کہ انہوں نے اس کو (کیوں) بیان نہ کیا، بلکہ (معاذ اللہ) حضور ا پر اعتراض ہے کہ آپ نے میت کے حق (یعنی تیسرے یا کسی خاص دن جمع ہونا جس کو عوام میت کے حق میں فائدہ مند سمجھتے ہیں) کو (کیوں) بیان نہ کیا بلکہ (معاذ اللہ) اس سے بھی بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ذات پراعتراض ہے کہ اس نے شریعت کو مکمل نہیں کیا (کہ اس میں تیسرے دن جمع ہونے کا کسی طرح بھی ذکر نہیں ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :” میں نے آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا“۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:ولا یباح اتخاذ الضیافۃ ثلاثۃ ایام کذا فی التاتارخانیہ۔ (فتاویٰ عالمگیری:۱/۸۶)’’موت کے تیسرے دن ضیافت کا اہتمام جائز نہیں۔ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:قرر اصحاب المذھب انہ یکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول و الثالث و بعد الاسبوع۔ (مرقات:۵/۴۸۳)’’اصحاب مذہب نے ثابت کیا ہے کہ پہلےدن، تیسرے دن اور ایک ہفتہ کے بعد ضیافت کا اہتمام کرنا مکروہ ہے‘‘۔اسی طرح تعزیت کی ایسی مجلسیں جس میں آنے والوں کے لے کھانے کا اہتمام بھی ہو، کراہت سے خالی نہیں، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع سے حضور اکرمﷺنے ان کے اہل خانہ کے لئے کھانا بنوایا، اس کی تشریح کرتے ہوئے ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

و اصطناع اہل البیت لہ لاجل اجتماع الناس علیہ بدعۃ مکروہۃ بل صح عن جویریۃ کنا نعدہ من النیاحۃ وھو ظاہر فی التحریم قال الغزالی و یکرہ الا کل منہ و ھذا اذا لم یکن من مال الیتیم او الغائب و الا فھو حرام بخلاف۔ (مرقاۃ المفاتیح:۲/۳۹۳)

’’میت کے اہل خانہ کا لوگوں کے اجتماع کے لئے کھانا بنانا مکروہ و بدعت ہے، بلکہ صحیح طور پر ثابت ہے(صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، وہ فرماتے ہیں:)حضرت جویریہؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایسا نوحہ کرنے والوں کے لئے (جاہلیت) میں کیا کرتے تھے اور اس کا حرام ہونا ظاہر ہے، امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اگر یتیم یا کسی غیر موجود وارث کا مال اس میں شریک نہ ہو تو اس دعوت میں کھانا مکروہ ورنہ حرام ہے‘‘۔

مشہور حنفی فقیہ علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:و یکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول و الثالث و بعد الاسبوع و نقل الطعام الی القبر فی المراسم و اتخاذ الدعوۃ بقراءۃ القراٰن و جمع الصلحاء و القراء للختم او القراءۃ سورۃ الانعام و الاخلاص۔ (کبیری:۵۶۵)

پہلے دن، تیسرے دن اور ایک ہفتہ بعد کھانا بنانا، قبر پر خصوصی مواقع پر کھانے کا لیجانا، قرآن خوانی کے لئے دعوت کا اہتمام کرنا، صالحین اور حفاظ و قراء کو ختم قرآن کے لئے جمع کرنا یا سورۂ انعام اور سورۂ اخلاص پڑھنے کے لئے جمع کرنا مکروہ ہے۔

علامہ طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:و تکرہ ضیافۃ من اھل البیت لانھا شرعت فی السرور لا فی الشرور و ھی بدعۃ مستقبحۃ۔ (طحطاوی علی مراقی الفلاح:۳۳۹)

اہل میت کی طرف سے ضیافت مکروہ ہے، اس لئے کہ یہ عمل خوشی کے لئے ہے نہ کہ مواقعِ غم کے لئے اور یہ بدترین بدعت ہے۔محقق عالم علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح منہاج میں فرماتے ہیں:

۱۔ الاجتماع علی مقبرۃ فی الیوم الثالث و تقسیم الورد و العود و الطعامِ فی الایام المخصوصۃ و الخامس و التاسع و العاشر و العشرین و الاربعین و الشھر السادس و السنۃ بدعۃ ممنوعۃ۔ (شرح منہاج)

ترجمہ: قبر پر تیسرے دن اجتماع کرنا اور گلاب و اگربتیاں تقسیم کرنا اور مخصوص دنوں کے اندر روٹی کھلانا، مثلاً تیجہ، پانچواں، نواں، دسواں، بیسواں، چالیسواں دن اور چھٹواں مہینہ اور سال کے بعد یہ سب کے سب امورِ بدعت اور ممنوع ہیں۔

علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

۳۔ ’’بعد مردن من رسوم دنیوی مثل دہم و بستم، ششماہی و بر سینی ہیچ نکنند کہ رسول اللہﷺزیادہ از سہ روز ماتم کردن جائز نداشتہ اند و حرام ساختہ اند‘‘۔ (مالابدّ منہ:۱۶۰)

ترجمہ: میرے مرنے کے بعد دنیوی رسمیں جیسے دسواں، بیسواں،ششماہی اور برسی نہ کی جائے، کیونکہ نبی کریمﷺنے تین دن سے زیادہ سوگ کرنے کو جائز نہیں فرمایا بلکہ اس کو حرام قرارا دیا ہے۔

علامہ شامی فتاویٰ بزازیہ سے نقل کرتے ہیں:

’’مکروہ ہے کھانا تیار کرنا پہلے دن، تیسرے دن اور ہفتہ کے بعد اور تہوار کے موقع پر قبر کی طرف کھانا لے جانا اور قرأت قرآن کے لئے دعوت کا اہتمام کرنا اور ختم کے لئے سورۂ انعام یا سورۂ اخلاص کی قرأت کے لئے بزرگوں اور قاریوں کو جمع کرنا۔ (شامی:۲۴۰)

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر صاحب تحفۃ الہند کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ یہ رسم ہندوانہ ہے، کیونکہ برہمن کے مرنے کے بعد گیارہواں دن اور کھتری کے مرنے کے بعد تیرہواں دن اور ویش یعنی بنئے کے مرنے کے بعد پندرہواں دن یا سولہواں دن اور شودر یعنی بالاہی وغیرہ کے مرنے کے بعد تیسواں یا اکتیسواں دن ہے، منجملہ ایک چھ ماہی کا دن ہے، یعنی مرنے کے چھ مہینے کے بعد، ازانجملہ برسی کا دن ہے اور ایک دن گائے کو بھی کھلاتے ہیں، ازاں جملہ اس کے مہینے کے نصف اول میں ہر سال اپنے بزرگوں کو ثواب پہنچاتے ہیں، لیکن جس تاریخ میں کوئی مرا اسی تاریخ کو ثواب پہنچانا ضروری جانتے ہیں اور کھانے کے ثواب پہنچانے کا نام سرادھ ہے اور جب سرادھ کا کھانا تیار ہوجاتا ہے تو اول اس پر پنڈت کو بلاکر کچھ بید پڑھواتے ہیں جو پنڈت اس کھانے پر پڑھتا ہے تو وہ ان کی زبان میں بھشر من کہلاتا رہے اور اسی طرح وہ بھی دن مقرر ہیں۔ (بحوالہ ماہِ بسنت:۹۱) دلائل

.بند

بدعت:

قبر پر اذان دینا۔ پختہ قبریں بنانا، قبروں پر گنبد بنانا،قبروں پر بیٹھنا ، طواف کرنا، قبروں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ۔تشریح

اذان ایک عبادت ہے اور اسی موقع پر دی جاسکتی ہے جہاں سنت سے ثابت ہو، اسی لئے جنازہ، عیدین اور نوافل وغیرہ کے لئے بالاتفاق اذان نہیں دی جاسکتی کہ یہ سنت سے ثابت نہیں ہے، موت کے بعد اگر اذان دی جاتی تو جنازہ کی نماز کے لئے دی جاتی، مگر ایسا نہیں کیا جاتا کہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔پس چونکہ میت کو قبر میں داخل کرتے وقت بھی اذان دینا کسی وزنی دلیل سے ثابت نہیں، اس لئے یہ عمل بھی بدعت ہوگا۔علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:لا یسن الاذان عند ادخال المیت۔ کہ میت کو قبر میں داخل کرنے کے وقت اذان (کہنا جیسا کہ آج کل عادت ہوگئی ہے) مسنون نہیں۔علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ حافظ ابن حجر شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:قد صرح ابن حجر فی فتاواہ بانہ بدعۃ۔ (رد المحتار:۶۵۹)ابن حجرؒ نے اپنے فتاویٰ میں صراحت کی ہے کہ یہ بدعت ہے۔

قال نھیٰ رسول اللہﷺان یجصص القبر و ان یبنی علیہ و ان یقعد علیہ۔ (مسلم، مسند احمد:۸/۷۸۔ ترمذی:۱۲۵۔ ابوداؤد، محلی ابن حزم:۵/۱۳۳۔ السنن الکبریٰ:۴/۴)

ترجمہ: رسول اللہﷺنے قبر کو پختہ بنانے اور اس پر عمارت بنانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

۲۔ نھیٰ رسول اللہﷺان یبنی علی القبور او یقعد علیھا او یصلّٰی علیھا۔ (مجمع الزاوئد:۳/۶۱)
ترجمہ: نبی کریمﷺنے قبروں پر عمارت بنانے اور ان پر بیٹھنےاور نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

۳۔ نھی رسول اللہﷺان یبنی علی القبر و ان یجصص۔ (مسند احمد بترتیب الفتح الربانی:۸/۷۸)
ترجمہ: نبی کریمﷺنے قبر پر عمارت بنانے اور قبر کو پختہ بنانےسے منع فرمایا ہے۔

چاروں اماموںؒ کے نزدیک بالاتفاق قبروں کو پختہ بنانا منع ہے

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ:
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

لا یُبنیٰ ولا یجصص فان ذٰلک یشبہ الزینۃ و الخیلاء و لیس الموت موضع واحد منھما۔ (کتاب الام:۲/۲۷۷)

ترجمہ: قبر پر نہ عمارت بنائی جائے اور نہ پختہ کیا جائے، کیونکہ یہ تو زینت اور متکبرین کی عادت سے مشابہ ہے اور موت ان دونوں میں سے ایک کی بھی جگہ نہیں ہے۔

امام مالک و امام احمد رحمۃ اللہ علیہما کا فتویٰ:

المجموع شرح المہذب میں ہے: ’’قبروں پر عمارت تعمیر کرنا اور قبروں پر لکھنا ناجائز ہوتا ہے، اس میں امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ اور داؤدِ ظاہری اور جمہور علماء سب کا اتفاق ہے‘‘۔ (المجموع شرح المہذب:۵/۲۹۸)

امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ:

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے میرے استاد نے یہ حدیث بیان کی:

یرفعہ الی النبیﷺانہ نھیٰ عن تربیع القبور و تجصیصھا۔ (کتاب الاٰثار:۵۲)

ترجمہ: انہوں نے نبی کریمﷺتک اس حدیث کی سند پہنچائی ہے کہ رسول اللہﷺنے قبروں کو مربع بنانے اور قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

اور یہ بات احناف کی تمام فتاویٰ کی کتابو میں لکھی ہوئی ہے، مثلاً علامہ ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ بحر الرائق میں تحریر فرماتے ہیں:

ولا یجصص لحدیث جابرؓ نھی رسول اللہﷺان یُجصص القبر و ان یُبنیٰ علیہ و ان یُکتب علیہ۔ (البحر الرائق:۲/۲۰۹)

ترجمہ: قبر کو پختہ نہ بنایا جائے، کیونکہ حضرت جابرؓ نے رسول اللہﷺسے روایت نقل کی ہے کہ آپﷺ نے قبر کو پختہ بنانے اور اس پر عمارت بنانے اور قبر پر لکھنے سے منع فرمایا ہے۔

علامہ ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں:

اما البناء علیہ فلم ار من اختار جوازہ و عن ابی حنیفۃ رحمہُ اللہ یکرہ ان یبنی علیہ بناء من بیت او قبّۃ او نحو ذالک لما روی عن جابرؓ نھی رسول اللہﷺعن تجصیص القبور و ان یکتب علیھا و ان یبنی علیھا۔ (ردّ المحتار:۱/۶۰۱)

ترجمہ: میں نے کسی کو نہیں دیکھا جس نے قبر پر عمارت بنانے کو پسند کیا ہو اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ قبر پر عمارت بنانا مکرہ ہے، خواہ مکان ہو یا گنبد یا اسی جیسی کوئی عمارت، کیونکہ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے قبروں کو پختہ بنانے اور قبروں پر لکھنے اور قبروں پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

لا یربع و لایجصص و یکرہ ان یبنیٰ علی القبور او یقعد او ینام علیہ و یکرہ ان یبنی علی القبور مسجداً او غیرہ۔ (فتاویٰ عالمگیری:۱/۱۶۶)

ترجمہ: قبر کو مربع نہ بنایا جائے اور نہ پختہ بنایا جائے اور قبر پر عمارت تعمیر کرنا اور قبر پر بیٹھنا اور قبر پر سونا مکروہ ہے، قبر پر مسجد بنانا یا اس جیسی کوئی عمارت بنانا مکروہ ہے۔

علامہ ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ شامی میں فرماتے ہیں:

امام البناء علیہ فلم ار من اختار جوازہ۔ (شامی:۱۰۱)

ترجمہ: مجھے معلوم نہیں کہ کسی نے عمارت بنانے کو جائز سمجھا ہو۔

نوٹ: مزید تحقیق کے لئے ان کتابوں کے حوالے ملاحظہ فرمائیے، طوالت کے خوف سے عبارت حذف کردی گئی ہے: فتاویٰ سراجیہ:۲۴۔ فتاویٰ قاضی خان:۱/۹۲۔ فتح القدیر شرح ھدایہ:۴/۴۷۲۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ:۱/۲۴۶۔ بدائع الصنائع:۱/۳۲۰۔ فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۱/۹۲۔ المفتی:۲/۳۸۷۔بند

بدعت:

قبروں پر چراغ جلانا، چادریں چڑھانا۔تشریح

حدیث میں ارشادِ نبویﷺ ہے:

لعن رسول اللہﷺزائرات القبور و المتخذین علیھا المساجد و السرج۔ (مشکوٰۃ:۷۱)

ترجمہ: رسول اللہﷺنے لعنت فرمائی ہے ان عورتوں پر جو قبروں پر جاتی ہیں اور ان لوگوں پر جو قبروں کو سجدہ گاہ بناتے ہیں اور چراغ جلاتے ہیں۔

مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

و النھیُ عن اتخاذ السراج لما فیہ تضیع المال لانہ لا نفع لاحد فی السراج ولانھا من اٰثار جھنم و اما للاحتراز عن تعظیم القبور کالنھی عن اتخاذ القبور مساجد۔ (مرقاۃ:۱/۴۷۰)

ترجمہ: قبر پر چراغ جلانے کی ممانعت یا تو اس لئے ہے کہ اس میں مال کو بے فائدہ ضائع کرنا ہے، کیونکہ اس کا کسی کو نفع نہیں، اس لئے کہ آگ تو جہنم کے آثار میں سے ہے، یا یہ ممانعت قبروں کی تعظیم سے بچانے کے لئے ہے، جیسا کہ قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت بھی اسی بناء پر ہے۔

فتاویٰ بزاریہ میں ہے:

’’قبرستان میں چراغ لے جانا بدعت ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے‘‘۔

در مختار میں ہے:

’’وہ نذر و نیاز جو عوام کی طرف سے قبروں پر چراغ جلائی جاتی ہے خواہ وہ نقدی کی صورت میں ہو یا تیل، وہ بالاجماع باطل اور حرام ہیں‘‘۔ (در المختار حصکفی:۲/۱۳۹)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

و ایقاد النار علی القبور فمن رسوم الجاھلیۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری:۱/۱۷۸)

ترجمہ: قبروں پر آگ جلانا (روشنی کرنا) جاہلیت کی رسموں میں سے ہے۔

روح المعانی میں ہے:

’’قبروں پر سے چراغوں اور شمعوں کو ہٹانا ضروری ہے، ایسی کوئی نذر جائز نہیں ہے‘‘۔ (روح المعانی:۱۵/۲۱۹)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات کا حکم نہیں دیا کہ ہم مٹی اور پتھر کو کپڑے پہنائیں‘‘۔ (مسلم:۲/۲۰۰)

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فتاویٰ میں صفحہ ۱۴ پر ہے:’’و اما ارتکاب محرمات از روشن کردن چراغہا و ملبوس ساختن قبور بدعت شنیعہ اند‘‘۔

شاہ رفیع الدین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’یعنی حرام چیزوں کا ارتکاب کرنا مثلاً قبروں پر چراغ جلانا اور ان پر چادریں چڑھانا اور سرود اور گانے بجانے کے آلات استعمال کرنا بدعاتِ شنیعہ میں سے ہیں اور ایسی مجالس میں حاضر ہونا ممنوع ہے‘‘۔

فتاویٰ شامی میں ہے:کرہ بعض الفقھاء وضع الستور و العمائم و الثیاب علی قبر الصالحین و الاولیاء قال فی فتاویٰ الحجۃ و تکرہ الستور علی القبور۔ (رد المحتار:۵/۲۳۲)

’’فقہاء نے صالحین اور بزرگوں کی قبروں پر کپڑے، عمامے اور چادر چڑھانے کو مکروہ قرار دیا ہے، فتاویٰ حجہ میں بھی قبروں پر چادر چڑھانے کو مکروہ قرار دیا گیا ہے‘‘۔

قاضی ابراہیم حنفیؒ نے ’’مجالس الابرار‘‘ صفحہ۱۱۸ میں ان امور کا ذکر کرتے ہوئے جو مسلمانوں کے تمام ائمہ کے یہاں بالاتفاق ناجائز ہیں لکھا ہے:’’تعلیق الستور علیھا۔ ان پر چادریں چڑھانا۔‘‘بند

بدعت:

تلاوت قرآن کریم پر اجرت لینا۔ قرآن کریم کی تلاوت پر اجرت لینےوالا اور دینے والا دونوں گنہگار ہوتے ہیں۔تشریح

قرآن کریم کا پڑھنا ایک بہت عمدہ عبادت ہے،اور پڑھ کر اس کا ثواب میت کو بخشا جاسکتا ہے ،بشرطیکہ ایصال ثواب کے لئے جو قرآن کریم پڑھاگیا ہو اس پر اجرت نہ لی گئی ہو،خواہ اجرت طے کی گئی ہو یا طے نہ کی گئی ہو مگر عرف اور رواج سے یہ معلوم ہو کہ کچھ نہ کچھ اجرت ضرور ملے گی، لان المعہود کالمشروط، احناف نے اس کی وضاحت کی ہے، چنانچہ تاج الشریعت محمود بن احمد الحنفی لکھتے ہیں کہ جو قرآن کریم اجرت پر پڑھا جاتا ہے اس کا ثواب نہ میت کو پہنچتا ہے اور نہ پڑھنے والے کو اور علامہ عینی الحنفی لکھتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت پر اجرت لینےوالا اور دینے والا دونوں گنہگار ہوتے ہیں،حاصل یہ ہے کہ ہمارے زمانہ میں جو قرآن کریم کے پاروں کا اجرت کے ساتھ پڑھنا رائج ہوچکا ہے وہ جائز نہیں ہے۔اس مسئلہ کی پوری تشریح علامہ شامی نے کی ہے۔

DiscoverIslamNp

DiscoverIslamNP is specifically for Islamic education. The best way to provide authentic Islamic education through DiscoverIslamNP is to adapt to the will of Islam. The main goal of this site is to quench the thirst for Islamic knowledge and offer the right solution to various religious Problems.

Leave a Reply