! اے فجر والو

<p style=”text-align:right;”>
تحریر : الشيخ / صالح بن عبد الرحمن الخضيري
ترجمہ : ابو سلمان محمد شمیم عرفانی
( اسلامک دعوت سینٹر عفیف)
تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، اللہ کی رحمتیں ہوں ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ پر اور آپ کے آل واولاد اور اصحاب پر ۔۔اما بعد ۔
ایک جماعت ہے جسے اللہ کی توفیق ملی جن کے چہرے روشن .پیشانیاں تابناک اور اوقات برکتوں والے ہیں اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں تو اللہ تعالی کے اس فضل پر اس کا شکر ادا کریں اور اگر آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں تو آپ کیلئے میری دعائیں ہیں کہ آپ بھی ان کے ہمرکاب ہوں آمین ۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ کون لوگ ہیں ؟؟؟
یقینا یہ اہل فجر ہیں : جو اس فریضہ کی ادائیگی پر کاربند اور اس شعار کا اہتما م کرنے والے ہیں ، کہ اس فریق کا ہر فرد اپنی صبح کا آغاز اور اپنے دن کی ابتداء اسی (صلاۃ ِ فجر ) کے ذریعہ کرتا ہے ، اور جس کی پابندی کرنے والوں کیلئے فرشتے گواہی دیتے ہیں اور جو اسے جماعت کے ساتھ ادا کرلے تو گویا اس نے پوری رات صلاۃ ہی میں گزاری ہے ، یہ وہ نماز فجر ہے جس کانام اللہ تعالی نے قرآن رکھا ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا (وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا)- سورۃ الاسراء /78 ترجمہ: اورفجر کا قرآن کا پڑھنا ، یقینا فجر کے وقت قرآن کا پڑھنا حاضر کیا گیا ہے ۔
اس کی محافظت کرنا جنت میں داخلے کے اسباب میں سے ہے اور اس کیلئے وضو کرنے میں نہ جانے کتنے درجات ہیں اور اس کیلئے چل کر جانے میں نہ جانے کتنی نیکیاں اور حسنات ہیں اور پھر اس وقت میں کیسی کیسی برکتیں نازل ہوتی ہیں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ( اللہم بارک لامتی فی بکورھا ) ۔ ترجمہ : اے اللہ میری امت کیلئے اس کی سھر خیزی میں رکتیں نازل فرما ( امام ابوداؤد ، احمد ، ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے اسے روایت کیا ہے۔
یہ وہ اہل فجر ہیں : جنہوں نے اللہ کے منادی (موذن ) کی آواز ( آؤ نماز کی طرف ) ، ( آؤ کامیابی کی طرف ) پر لبیک وسعدیک کہا اورحاضری دی ایسے لوگوں پر اللہ کی سلامتی ہو کہ انہوں نے ( الصلوۃ خیر من النوم ) یعنی صلاۃ نیند سے بہتر ہے اس حقیقت کو سمجھا ، اور عبادت کے معنی ومفہوم کا ادراک کیا ۔ تو سارے دنوں کی سعادت اور نیک بختی انہیں حاصل ہوئی جو ان کیلئے بشارت و خوشخبری اور ثبات واستقلال کا باعث ہوتی ہے اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( بشر المشائين في الظلم إلى المساجد بالنور التام يوم القيامة ) – ترجمہ : تاریکیوں میں مسجدوں کی طرف پیدل چلنے والوں کو روزِ قیامت بھر پور روشنی کی خوشخبری دو ۔ اس حدیث کو امام ترمذی اور ابو داؤد رحمھما اللہ نے نقل فرمایا ہے ۔
فجر والو! تم بے شک زبردست عظیم اجر سے کامیاب و کامران ہوئے پس تم شہوت پرست دنیادار لوگوں پر رشک مت کرو کیونکہ فی الحقیقت ان کے پاس کوئی ایسی شئ نہیں ہے جو رشک کے قابل ہو بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے خواہاں رہو ، اس پر رشک کرو اور اس کے حصول کیلئے اللہ تعالی کی مدد اور اعانت پر اس کا شکر ادا کرو اور اسی کی طرف انابت اور توجہ کرو ، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( من صلى العشاء في جماعة فكأنما قام نصف الليل و من صلى الصبح في جماعة فكأنما صلى الليل كله) – ترجمہ : جس نے عشاء کی صلاۃ جماعت کے ساتھ ادا کی گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جس نے نے صبح کی صلاۃ جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے رات بھر قیام کیا ۔امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا ہے ۔
اے اہل فجر ! آپ کو جنت میں اللہ تعالی کے دیدار کی سعادت اور شرف باریابی مبارک ہو ، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : (بے شک تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گےجیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت نہیں ہوگی پس اگر تم پابندی کرسکتے ہو کہ آفتاب کے طلوع وغروب سے پہلے کی نمازوں کی پابندی پر ( شیطان سے ) مغلوب نہ ہوجاؤ تو بہترہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ( سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو )۔
اے فجر والو ! کیا آپ اس بات سے خوش نہیں ؟ کہ لوگ مال ودولت اور پری جمال بیویوں سے ہمکنارہوں اور آپ وقت کی برکتوں ، نشاط انگیز لمحوں ، نفس کی پاکیزگی ، مختلف النوع تحائف نیز باغ وبہشت میں داخلے اور رحمتوں کے نزول سے سرفراز اور شادکام ہوں ، رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے (من صلی البردین دخل الجنۃ ) – ترجمہ : جس شخص نےدو ٹھنڈے وقتوں کی صلاۃ پڑھی وہ جنت میں داخل ہوا َ ۔اخرجہ البخاری ومسلم۔
البردان سے مراد فجر اور عصر کی صلاۃ ہے نیز آپ ﷺ کا ارشاد ِمبارک ہے : ( ایسا شخص آگ میں داخل نہیں ہوگا جس نے سورج کےطلوع اور اس کے غروب سے پہلے صلاۃ ادا کی ) – اخرجہ مسلم ۔ ا س سے مراد فجر اور عصر کی صلاۃ ہے۔
اے فجر والو! آپ اللہ کی حفاظت میں ہو ، آپ پاکیزہ نفوس والے ،فعال و سرگرم بدن والے ہو ، نبی ﷺ کا ارشاد ہے : جس نے صبح کی صلاۃ ادا کی تو وہ اللہ کے ذمہ ( حفاظت ) میں ہے – امام مسلم نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔
نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ( جب تم لوگوں میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر کے آخری حصہ پر تین گانٹھیں لگا دیتا ہے اور ہر گانٹھ کی جگہ پر ضرب لگا دیتا ہے کہ تم پر رات لمبی ہو اور سوجاؤ ، پس اگر وہ جاگتا ہے اور اللہ کاذکر کرتا ہے تو ایک گِرہ کھل جاتی ہے ،جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری ِگِرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ صلاۃ ادا کرتا ہے تو تیسری گانٹھ بھی کھل جاتی ہے چنانچہ وہ شخص چاق وچوبند اور پاکیزہ نفس بن کر صبح کرتا ہے وگر نہ پھر سست اور خبیث بدن کے ساتھ صبح کرتا ہے ) – متفق علیہ۔
اے اہل فجر ! آپ کے شرف اور سعادت کیلئے یہی بات کافی ہے کہ رحمن کے فرشتے آپ کیلئے حاضری دیتے ہیں چنانچہ اللہ کے رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( کچھ فرشتے رات کو اور کچھ فرشتے دن کو تمہارے پاس یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں اور یہ تمام فرشتے فجر اور عصر کی صلاۃ میں جمع ہوجاتے ہیں اور پھر جو فرشتے رات کو تمہارے پاس آتے ہیں جب وہ آسمان پر چڑھتے ہیں تو ان سے ان کا رب پوچھتا ہےحالانکہ وہ خود اپنے بندوں سے خوب واقف ہے کہ : تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ہے ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے انہیں صلاۃ پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب ہم ان کے پاس پہونچے تھے تب بھی وہ صلاۃ ادا کر رہے تھے ) – متفق علیہ ۔
فجر والو! آپ لوگ خاص طور سے اور وہ لوگ عام طور سے جو صلاۃ باجماعت کی پابندی کرتے ہیں خوش ہوجاؤ کیونکہ آپ کا وضو بلندئ درجات نیز مسجد کی طرف آپ کا پیدل چلنا نیکیوں میں اضافہ ، اس میں آپ کا بیٹھنا رحمتِ الہی اور ربانی فیوض وبرکات کے اسباب میں سے ہے ، حدیث پاک میں ہے : ( جو شخص صبح یا شام مسجد کی طرف چلتا ہے تو اللہ تعالی اس کیلئے جنت میں ضیافت کا اہتمام فرمائیں گے جتنی دفعہ بھی وہ صبح اور شام کو مسجد کی سمت گیا ہوگا ) –بخاری اور مسلم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ۔ اور آپ ﷺ کاارشاد ہے : ( جماعت کی صلاۃ اکیلے کی صلاۃ سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے ) اور ایسا اس لئے ہے کیونکہ جب وہ وضو کرتا ہے اور بہترین وضو کرتا ہے اور پھر مسجد کیطرف صرف صلاہ کے قصد وارادہ سے جاتا ہے توہ جتنے بھی قدم اٹھاتا ہے اس کے ہر ہر قدم کے بدلے میں اس کیلئے ایک ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور اس کے ہر ایک قدم کے بدلے میں اسکا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے اور جب صلاۃ ادا کرتا ہے اور جب تک وہ اپنی صلاہ میں رہتا ہے فرشتے اس کیلئے دعائے رحمت کرتے ہیں کہ : اے اللہ اس پر رحمت نازل فرما، اس پر سلامتی نازل فرما اور کوئی بھی آدمی اس وقت تک نماز میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کے انتظار میں ہوتا ہے ) – متفق علیہ ۔ اور مسلم شریف کی روایت میں ہےکہ : ( اے اللہ اس پر رحم فرما ،اس کی بخشش فرما ، اس کے گناہوں کو معاف فرما جب تک کہ وہ اس ( مسجد ) میں کسی بھی ایذاء رسانی کے گناہ سے محفوظ رہے اور کسی طرح کی غلطی کا ارتکاب نہ کرے)۔
نیز رسول مقبول ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : ( کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالی گناہوں کو محو کرتے اور درجات کو بلند فرماتے ہیں لوگوں نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ( ﷺ) ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : با دل نخواستہ ( نہ چاہتے ہوئے بھی ) وضو کو اچھی طرح پورے طور سے مکمل کرنا اور مسجد وں کی طرف زیادہ سے زیادہ پیدل چلنا اور ایک نماز کی ادائیگی کے بعد کے بعد دوسری نما ز کا انتظار کرنا ، اور یہی رباط ہے ، یہی رباط ہے ( یعنی یہی محافظت اور پابندی ہے ٰ ) امام مسلم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ پس سلامتی ہو ان لوگوں پر جو نماز فجر کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے والے ہیں جنہوں نے اپنی نیند اور دل کی راحت اورآرام کو قربان کیا، جو قصہ گوئی اور رکیک وبیہودہ باتوں سے دور رہے اور ( اللہ تعالی کی ) عظیم نعمتوں اور اجر وثواب سے شادکام اور بہرہ یاب ہوئے ، نیز آپ انہیں اس حالت میں پاؤگےکہ رات میں الارم گھڑی کے کےذریعہ وہ نماز ِ فجر کیلئے چاق وچوبند رہتے ہیں اور وضو نیز مختلف اذکار ووظائف کا ورد کرتے ہوئے اس کیلئے ہمیشہ مستعد اور تیار رہتے ہیں اور جب انہیں غلبہء نیند کا اندیشہ ہوتا ہے تو بیدار کردینے کیلئے اپنے کسی بھی ساتھی کو وصیت کردیتے ہیں اور ان تمام چیزوں سے بالاتر ان کا وہ ایمانی شعور اور جذبہ ہے جس سے ان کے دل سدا معمور رہتے ہیں چنانچہ کبھی انہیں اگر کوئی ضرورت بھی پیش آجائے اور اتفاقا کبھی نیند کی وجہ تاخیر اور دیریبھی ہوجائے تو نماز کے وقت اسے دیکھوگے کہ وہ اپنی نیند سے بے چینی اور گھبراہٹ کےعالم میں نماز کیلئے یکا یک بیدار ہوجاتا ہے اور اس کی ادائیگی کیلئے بڑے ہی عزم و طمطراق کے ساتھ یکسر جلدی کرتا ہے ، بہت ہی خوش نصیب ہیں ایسے لوگ جنہوں نے نماز ِ فجر کو اس کے وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کیا ، اور اس کا التزام اور اس پر مداومت کی اور ایک ایسے عمل کے ساتھ لیلائے کامرانی سے ہمکنار ہوئے جو اللہ باری تعالی کے نزدیک بہت ہی محبوب اور افضل ترین عمل ہے ۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اور افضل ترین عمل کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( صلاۃ کو اس کے وقت پر ادا کرنا )- الحدیث – متفق علیہ ۔
یہی وہ حق پرست صاحبِ ایمان لوگ ہیں جن کی بابت اللہ تعالی کا ارشادِ پاک ہے : ( ان گھروں میں جن کے ادب واحترام کا اور اللہ تعالی کا نام وہاں لئے جانے کا حکم ہے وہاں صبح وشام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر اور نماز کے قائم کرنے نیز زکوۃ کو اداکرنے سے غافل نہیں کرتی ، اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دِل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے، بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ مزید نوازشوں سے بہرہ ور فرمائے ، اللہ تعالی جسے چاہے بےشمار روزیاں دیتا ہے ۔( النور / 36 – 38 )۔ ہاں وہ لوگ جنہوں نے نماز جیسی عظیم نعمت ضائع کردی ، اس کے ساتھ غفلت اور سستی برتتے رہے ، اس کو اس کے وقت سے موخر کرتے رہے ، اے کاش ! انہیں خبر ہوتی کہ گناہوں کا کیسا زبردست بوجھ انہوں نے اٹھایا ہے اور کیسے عظیم اجر سے حرماں نصیبی کے شکار ہوئے ہیں ، اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ( ان نمازیوں کیلئے افسوس اور ( ویل نامی جہنم کی جگہ ) ہے جو اپنی نماز سے لاپرواہ اور غافل ہیں )۔الماعون : 4-5 َ۔
نیز ارشادِ ربانی ہے : ( پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے ، پس وہ اس کا انجام جلد ہی آگے پائیں گے ، سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں ایسے لوگ جنت میں جائیں گےاور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کیجائیگی ) – مریم: 59-60 ۔ اور نبئ کریم ﷺ کا ارشاد ِ مبارک ہے : ( روز ِ قیامت سب سے پہلے بندہ سے اس کے عمل میں سے چیز کے بارے میں بازپرس ہوگی وہ نماز ہے ، اگر نماز صحیح ہے تو یہ کامیاب وکامران ہے اور اگر نماز فاسد ہے تو یہ ناکام ونامراد ہے ) – امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا ہے ۔
نماز با جماعت اور خاص طور سے نماز ِ فجر کو ضائع کرنے والو!
کیا آپ کے پاس اتنی ہمت اور حوصلہ نہیں ہے جس کے ذریعہ آپ بھی ان لوگوں کے شانہ بہ شانہ اور قائم مقام ہوجائیں جن کا ذکر ابھی گزرا ہے ، آپ اپنے خلاف شیطان کیلئے راستہ کیوں ہموار کررہے ہیں ؟ آپ اس بات سے کیوں رضامند ہیں ؟ کہ شیطان آپ کے کانوں میں پیشاب کرے ، چنانچہ ایک دفعہ اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا جو پوری رات صبح تک سویا رہ گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( یہ ایسا آدمی ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کیا ہے ) – بخاری ومسلم نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔
میرے بھائی! ذرا سوچو اور یاد کرو جس وقت تم نیند کے آغوش میں محو ِ راحت ہوتے ہو کہ اس کے بعد پھر تمہیں کیسی کیسی حسرتوں اور رنج والم کا سامنا کرنا ہوگا تمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺ کا یہ قول ہی کافی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ : ( ایسے شخص نے خبیث نفس اور سست بدن کے ساتھ صبح کی ) – اور اسی طرح آپ ﷺ نے حدیث الرؤیا ( خواب والی حدیث ) میں بیان فرمایا : ( البتہ وہ شخص جس کا سر پتھر سے کچلا جارہا تھا تو یہ وہ شخص ہے جو قرآن کو حاصل کرتا ہے پھر اس کا انکار کردیتا ہے اور فرض نماز میں سوجاتا ہے ) – اخرجہ البخاری ۔ پس جب اس نے نماز چھوڑ کر نیند کے مزے لئے تو اس کا بدلہ اس کو یہ دِیا گیا کہ اس کا سر پتھر سے مار مار کر کچل دِیا جائے یعنی جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
اس لئے یہ یاد رکھو کہ حق فجر والوں کے ساتھ ہے : تاکہ تم بھی اللہ کے حفظ واَمان میں رہو ، تمہیں بھی نیک لوگوں کے دَفتر میں لکھا جائے اور تمہارے لئے بھی منجانب اللہ سعادت ونیک بختی اور روشنی حاصل ہو نیزتمہارا نام بھی نفاق کے صحیفہ سے مٹا دیا جائے ، نبئ کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : ( اہل ِ نفاق پر صلاۃ ِ ِ فجر اور عشاء سےزیادہ کوئی اورصلاۃگِراں نہیں ہوتی اور اگر یہ لوگ ان دونوں نمازوں کی خیروبرکت کو جان لیتے تو چاہے سرین کے بَل چل کے آنا پڑتا تو وہ ضرور آتے )- امام بخاری اور مسلم رحمھما اللہ نے اسے روایت کی ہے ۔
میرے بھائی ! اپنے نفس کا محاسبہ کرو اور اپنے رَب کے ساتھ سچائی اختیار کرو ، اپنا آج کادن ایسے توبہ واستغفار سے شروع کرو جو تم سے سرزَد ہونے والی گذشتہ کوتاہیوں کومٹادے ، اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ، اللہ سے ہمیشہ مَدَد کے طلبگار رہو ، اور رات رات بھر جاگنے سے بچو ، کیونکہ نمازِ فجر کے چھوٹ جانے کا سب سے اہم سبب یہی ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ ان اسباب کو بھی اختیار کرو جو اللہ کی توفیق سے تمہارے لئے معاوِن ثابت ہوسکتے ہیں وہ اس طرح سے کہ طہارت اور پاکیزگی کی حالت میں سونے کے وقت کے اذکار اور دعائیں پڑھ کر سوؤ ، اور تمہارے پاس الارَم گھڑی بھی ہو ، اس کے باوَصَف اگر نہ جاگنے کا اندیشہ ہو تو اپنے اہل ِ خانہ یا ہمسایوں کو تاکید کردو کہ وہ تمہیں رابطہ کریں اور بیدار کردیں پھر تم بیدار ہوتے ہی اللہ کا ذکر کرو اور فوری طور سے بلاتردد اور سوچ اور وِچار کے اپنے بستر سے الگ ہوجاؤ اور شیطان تمہیں یہ جھانسہ نہ دینے پائے کہ تم تھوڑا اور آرام کرلو کیونکہ یہی اس کا چور دروازہ ہے معصیت اور گنا ہ کے کاموں سے خاص طور پر غلط اور حرام نظروں سے اپنے آپ کو بچاؤ اور محفوظ رکھو کیونکہ گناہ اور معصیت کسی بھی شخص کیلئے نیکی اور خیر وطاعت کے کاموں سے غفلت اور محرومی کا سبب ہے ، بلند عزم و حوصلہ رکھو اور ان لوگوں کا اجر وثواب یاد کرو جن کے دِل مسجدوں سے وابستہ ہوتے ہیں اور وہ ان کی طرف جانے میں جلدی کرتے ہیں ۔اور اکثر وبیشتر مسجدوں میں انکی آمدورفت لگی رہتی ہے ،یہ ان سات اشخاص میں سے ہیں کہ جنہیں اللہ تعالی اس دن اپنے عرش کےسائے میں رکھیں گے جس دن اسکے سِوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا اور یہی وہ سعادت مند لوگ ہیں جنہیں دنیا میں توفیق حاصل ہوئی اور جو آخرت میں جنت کے حقدار قرار پائے ، اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ( تین لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالی کی ضمانت میں ہیں اگر وہ زندہ رہیں تو انہیں روزی نصیب ہو اور کفایت حاصل ہو اور اگرمرجائیں تو اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے اور انہیں لوگوں میں سے وہ شخص بھی ہے جو مسجد کیلئے نکلتا ہے تو وہ اللہ کی ضمانت ( حفظ واَمان ) میں ہوتا ہے ) – رواہ ابوداؤود وابن حبان ۔
میں اللہ تعالی سے اپنے لئے ،اس کتابچہ کے قارئین اورتمام مسلمان مرد وخواتین کے لئے دنیا وآخرت کی سعادت ، اللہ کی خوشنودی اور اس کی جنت کے حصول کی دعا کرتا ہوں ۔
وصلى الله على نبينا محمد و على آله وبارك وسلم ….
و الحمد لله رب العالمين ۔</p>

DiscoverIslamNp

DiscoverIslamNP is specifically for Islamic education. The best way to provide authentic Islamic education through DiscoverIslamNP is to adapt to the will of Islam. The main goal of this site is to quench the thirst for Islamic knowledge and offer the right solution to various religious Problems.

Leave a Reply