اسلامی عقیدہ
اللہ تعالی کی ذات،صفات اور افعال میں مثیل و برابر ہونے کا انکار کرنا،اور اللہ تعالی کی ربوبیت وعبادت میں شریک ہونے کی نفی کرنا، توحید کہلاتا ہے .

اسلامی عقیدہ

٭لقمان علیہ السلام کی نصیحتیں اپنے بیٹے کو٭

اور جب کہ لقمان نے وعظ کہتے ہوے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے،ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے،اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھٹائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر،(تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے،اور اگر وہ دونوں (ماں اور باپ) تجھ پر اس بات کا دباؤڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا،ہاں دنیا ں میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا،اور اس کی راہ چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبر دار کردوں گا، پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وہ (بھی) خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالی ضرور لائے گا،اللہ تعالی بڑا باریک بین اور خبر دار ہے، اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا،اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا،اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا (یقین مان) کہ یہ(بڑی) ہمت کے کاموں میں سے ہے،لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر مت چل، کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالی پسند نہیں فرماتا،اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر، اور آواز پست کر،یقینا آوازوں میں سب سے بد تر آواز گدھوں کی آواز ہے. (سورۃ لقمان: ۳۱۔۔۹۱)

پہلا باب

توحید کا معنی

کسی چیز کو ایک جاننا اور ایک سے زائد ہونے میں اس سے انکار کرنا،

شرعی معنی: اللہ تعالی کی ذات،صفات اور افعال میں مثیل و برابر ہونے کا انکار کرنا،اور اللہ تعالی کی ربوبیت وعبادت میں شریک ہونے کی نفی کرنا،  توحید کہلاتا ہے .

اللہ تعالی کا کو ئی ہمسر نہیں ہے،اللہ نے اس کی نفی کی ہے کہ کوئی اسکا ہمسر ہو، اللہ نے فرمایا (ولم یکن لہ کفوا احد)کہ اس (اللہ)کا کو ئی ہمسر نہیں ہے (الاخلاص:۴) اور اللہ تعالی کی ربوبیت میں کوئی شریک ہو اس کا بھی اللہ نے انکار کیا ہے، فرمایا (قل من رب السماوات والارض قل للہ) کہ آپ (اے نبی کریم ﷺ  ان کافروں اور مشرکین) سے پوچھیے کہ آسمان اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ.(الرعد:۶۱) اور اللہ کی عبادت میں کو ئی شریک ہو اس کی بھی اللہ نے نفی کی ہے،

فرمایا  (فاعلم انہ لاالہ الا اللہ) پس جان لو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے.

 اور اللہ نے فرمایا (قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذالک امرت وانا اول المسلمین) آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز، اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں .(الانعام:۳۶۱)

توحید کی قسمیں

٭توحید کی تین قسمیں ہیں:

٭۱۔۔: توحید اسماء وصفات

٭۲۔۔: توحید ربوبیت

٭۳۔۔: توحید الوہیت

٭ توحید اسما وصفات: اللہ تعالی نے جو نام اور صفات (خوبیاں) اپنی ذات کمال کے لئے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول ﷺکی زبان مبارک سے ثابت کیا ہے ان سب کو بغیر تمثیل،تشبیہ ا ور تعطیل  کے خالص اللہ تعالی کے لئے ماننا   .

اللہ تعالی فرماتا ہے (لیس کمثلہ شیء  وھو السمیع البصیر)کہ اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے (الشوری:۱۱)

٭ توحید ربوبیت: اللہ تعالی کو خالق،رازق،مالک، مارنے اورجلانے، نفع ونقصان اور عطا کرنے اور روک لینے وغیرہ میں ایک جاننا، اور اس پر ایمان لانا توحید ربوبیت کہلاتا ہے.

٭ توحید الوہیت: عبادت کی ساری قسموں میں اللہ سبحانہ وتعالی کو ایک جان کر اس کی عبادت کرنا توحید الوہیت کہلاتا ہے،جیسے:

نذر ذبیحہ اور قربانی،مدد طلب کرنا پناہ پکڑنا اور مصیبت میں پکارنا، اسی طرح ڈر، خوف، رجا ، بھروسہ اور توکل وغیرہ ہے، ان سب میں اللہ کو ایک جان کر اس کی عبادت کرنا، اللہ تعالی فرماتا ہے  (قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذالک امرت وانا اول المسلمین) آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز، اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں .(الانعام:۳۶۱)

دوسرا باب

شرک

شرک کی قسمیں:

٭ شرک اکبر

٭ شرک اصغر

٭ شرک خفی

۱۔۔: شرک اکبر:  یہ وہ شرک ہے جس کا مرتکب اگر بغیر توبہ کیے مر جائے تو  اللہ اسے معاف کرنے والا نہیں ہے اور اس کے  اوپر جنت حرام ہے، کیونکہ اس کے ارتکاب سے اس کے سارے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں،

اللہ تعالی فرماتا ہے (ولو اشرکوا لحبط عنہم ماکانوا یعملون)کہ اگر یہ حضرات شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے انکے سب اکارت ہوجاتے .(الانعام:۸۸)

 اور اللہ نے فرمایا (ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشاء) کہ اللہ اپنے ساتھ شریک کرنے والوں کو معاف کرنے والا نہیں ہے اور شرک کے علاوہ اگر کوئی گناہ ہے تو اللہ چاہے تو وہ معاف کرنیوالا ہے .

اللہ تعالی فرماتا ہے (انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماواہ النار وما للظالمین من انصار) یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے، اللہ تعالی نے اس پر جنت حرام کردی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا . (المائدۃ:۲۷)جیسے: مردوں کو پکارنا  ان کو مدد کے لئے بلانا، ان کی نذر ماننا اور ان کے لئے قربانی دینا.

۲۔۔: شرک اصغر: یہ وہ شرک ہے جس کا مرتکب نہ تو اس کے اعمال برباد ہو تے ہیں اور نہ ہی وہ جہنم میں ہمیشگی کا موجب ہے، مگر ہاں اس کی وجہ سے کمال توحید میں نقص آجاتا ہے یعنی  کامل توحید اس میں نہیں پائی جاتی،

اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ((من حلف بغیر اللہ فقد کفر او اشرک)) کہ جس نے بھی اللہ کے علاوہ کسی کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا.

اور دوسری حدیث میں ہے ((کہ تم یہ مت کہو کہ اللہ نے اور فلاں نے چاہا تو ایسا ہوا، بلکہ یہ کہو کہ اللہ نے چاہا اور پھر فلاں نے چاہا تو ایسا ہوا))

شرک اصغر کی مثال:  جیسے اللہ کے علاوہ کسی کی قسم کھانا، اور یہ کہنا کہ اللہ نے اور فلاں نے چاہا تو ایسا ہوا، وغیرہ ہے.

۳۔۔: شرک خفی: اور یہ ریا کاری اور دکھاوا ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ((کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ تمہارے اوپرخوف کھانے والی بات ہے،؟ صحابہ کرام نے کہا، ضرور بتائیے اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا وہ شرک خفی ہے  .. ایک آدمی نماز کو مزین کرکے اس لئے پڑھتا ہے تاکہ لوگ اس کی طرف دیکھیں))

تیسرا باب:

اسلام اور ایمان کے ارکان

٭ اسلام کے ارکان٭

۱۔۔: لالہ الا اللہ ومحمد رسول اللہ کی گواہی دینا .

۲۔۔: نماز ادا کرنا .

۳۔۔: زکاۃ دینا .

۴۔۔: رمضان کے روز رکھنا .

۵۔۔: اگر بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت ہوتو حج کرنا .

٭ ایمان کے ارکان ٭

۱۔۔: اللہ پر ایمان رکھنا .

۲۔۔: اس کے فرشتوں پر ایمان رکھنا .

۳۔۔: اس کے آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا .

۴۔۔:اس کے تمام رسولوں پر ایمان رکھنا .

۵۔۔: قیامت کے دن پر ایمان رکھنا .

۶۔۔: اور بھلی وبری تقدیر پر ایمان رکھنا کہ یہ سب اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہے.

چوتھا باب:

 لا الہ الا اللہ اور محمدارسول اللہ کی گواہی:

٭ لا الہ الا اللہ کی گواہی:

 کلمہ(لا الہ) اس سے ان تمام معبود ان باطلہ کی نفی ہو تی ہے جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے،اور کلمہ (الا اللہ) تمام قسم کی عبادت صرف اور صرف اللہ کے لئے ہے اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے ثابت ہو تی ہے.

تو اس پورے کلمہ (لا الہ الا اللہ) کا معنی ہوا: کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے .

٭ لا الہ الا اللہ کی گواہی کی آٹھ شرطیں ہیں:

۱۔۔: علم جو جہالت کے منافی ہے .           ۲۔۔: یقین جو شک کے منافی ہے.

۳۔۔: اخلاص جو شرک کے منافی ہے .       ۴۔۔: صدق وسچائی جو کذب اور جھوٹ کا ضد ہے .

۵۔۔: محبت جو بغض و دشمنی کا ضد ہے .          ۶۔۔: انقیاد جو ترک اور چھوڑنے کا ضد ہے .

۷۔۔: قبول جو انکار کا ضد ہے .               ۸۔۔:  ان سب کا انکار جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے.

٭ محمد رسول اللہ کی گواہی کا معنی:

اس کا معنی یہ ہے کہ اس پر ایمان لانا،اور انہوں نے جن چیزوں کے بارے میں بتلایا ہے ان کی تصدیق کرنا، اور جس بات کا حکم دیا ہے اس کی اطاعت کرنا، اور جس سے منع کیا ہے اس کو چھوڑنا،اور  ان کے امر و نہی کی تعظیم کرنا، اور ان کی بات پر کبھی بھی کسی کی بات کو مقدم نہ کرنا .

٭ نبی کریم کے بارے میں معرفت حاصل کرنا: جیسے آپ کا نام: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فھر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن معد بن عدنان،ہے.

آپ کی ماں کانام: آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زھرہ بن کلاب، ہے.

٭ آپ ﷺ کی کل تیرہ بیویاں تھیں، آپ کی وفات کے وقت نو بیویاں موجود تھیں جن کے نام درج ذیل ہیں:

۱۔۔: خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا، اور یہ آپ کی سب سے پہلی بیوی ہے  .

۲۔۔: عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا، آپ نے ان کے ساتھ اس وقت شادی کی جب یہ سات سال کی عمر کی تھی .

۳۔۔: سودہ بنت زمعۃ رضی اللہ عنہا،

۴۔۔: زینب بنت جحش الاسدیۃ رضی اللہ عنہا .

۵۔۔: ام سلمہ بنت امیہ المخزومیہ رضی اللہ عنہا، جن کانام (ھند) ہے .

۶۔۔: حفصہ بنت عمر بن الخطاب  رضی اللہ عنہا .

۷۔۔: ام حبیبہ (رملہ بنت ابی سفیان) رضی اللہ عنہا .

۸۔۔: جویریۃ بنت الحارث الخزاعیۃ رضی اللہ عنہا.

۹۔۔: صفیہ بنت حیی بن الاخطب رضی اللہ عنہا .

۰۱۔۔: میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا .

۱۱۔۔: زینب بنت خزیمہ الہلالیۃ رضی اللہ عنہا .

٭ اور ان دو بیویوں کے نام جن کے پاس آپ نہیں گئے .

۲۱۔۔:  اسماء بنت نعمان الکندیۃ .

۳۱۔۔: عمرہ بنت یزید الکلابیۃ.

پانچواں باب

دین کے تین اہم اصول

٭ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم چار اہم مسائل کے بارے میں جانیں:

۱۔۔: علم: اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ، اس کے رسول، اور دین اسلام کے بارے میں دلیل کے ساتھ معلومات حاصل کریں،

۲۔۔: اس پر عمل کریں،

۳۔۔: اس کی دعوت دیں،

۴۔۔: اگر اس میدان میں ہمیں تکلیف پہونچے تو اس پر صبر کریں،

٭اس کی دلیل:

(والعصر، ان الانسان لفی خسر، الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر)قسم ہے زمانے کی بیشک انسان سر تا سر نقصان میں ہے،سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی (العصر)

٭ اور اسی طرح ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے تین مسائل کا سیکھنا اور اس پر عمل کرنا واجب اور ضروری ہے، اور وہ مسائل یہ ہیں:

۱۔۔۔: کہ اللہ تعالی نے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہمیں وہی رزق عطا کرتا ہے اور ہمیں یونہیں بیکار نہیں چھوڑا ہے بلکہ ہماری طرف رسولوں کو بھیجا ہے، تو جو اس کی اطاعت کریگا جنت میں جائے گا اور جو اس کی نافرمانی کریگا  اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا،

۲۔۔: اللہ تعالی کبھی بھی اس بات پر راضی نہیں ہے کہ کسی بندہ کو اس کے ساتھ عبادت میں شریک کیا جائے، چاہے وہ بندہ کو ئی محبوب اور مقرب فرشتہ یا وہ کو ئی نبی مر سل ہی کیوں نہ ہو .

۳۔۔: جس نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا اور رسول کی اطاعت کی اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے شخص سے دوستی کرے جو اللہ اور اس کے رسول کا دشمن ہو چاہے وہ اس کا کو ئی قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو،

٭ان امور کو بھی جانیے۔ اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی ہم سب کو توفیق عطا کرے۔:

۱۔۔: ملت ابراہیمی یہ ہے کہ، اللہ کی عبادت دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوے کی جائے، کیونکہ اسی کا ہمیں اللہ تعالی نے  تمام لوگوں کوحکم دیا ہے، اور اسی مقصد کے لئے ہمیں پیدا کیا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے (وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون) کہ ہم نے انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے (الذاریات:۶۵)

ب۔۔: سب سے عظمت والی بات جس کا حکم ہمیں اللہ تعالی نے دیا ہے وہ ہے توحید، یعنی صرف اللہ ہی کی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرنا .

ج۔۔: اور سب سیاہم ترین بات جس سے ہمیں اللہ تعالی نے منع کیا ہے وہ ہے شرک، یعنی اللہ کے علاوہ اللہ کے ساتھ کسی اورکو پکارنا، اللہ تعالی کا فرمان ہے (واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا) اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو.

٭اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ وہ تین اصول کیا ہیں جن کی معرفت رکھنا ہر انسان پر واجب ہے تو آپ کہیں:

۱۔۔: بندہ اپنے رب کو جانے .

۲۔۔: بندہ اپنے دین کو پہچانے .

۳۔۔: بندہ اپنے نبی محمد ﷺ کے بارے میں علم رکھے .

٭ بندے کا اپنے رب کے بارے میں جاننا، جیسے: اگرکوئی آپ سے پوچھے کہ آپ کا رب کون ہے؟ تو آپ کہیں: کہ میرا رب اللہ ہے جس نے مجھے اور تمام عالم کو اپنی نعمت سے پالا ہے اور پال رہا ہے، وہی میرا معبود برحق ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے .

٭ بندہ کا اپنے دین کو پہچاننا جیسے: اپنے دین اسلام کو دلیل اور ثبوت کے ساتھ پہچانے اور وہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرے،اور اس کی اطاعت کرے اور شرک و اہل شرک سے بالکل بیزاری کا اظہار کرے، اور اس دین اسلام کے تین مراتب ہے:

۱۔۔: اسلام:   ۲۔۔: ایمان:   ۳۔۔: احسان:

٭ اور اپنے نبی محمد ﷺ کے بارے میں جاننے کا مطلب یہ ہے کہ، وہ یہ جانے کہ آپ کا نام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ہے، اور ہاشم کا تعلق قبیلہ قریش سے ہے  اور قریش عرب سے ہے اور عرب کا تعلق اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہے،

٭ آپ ﷺ کی وفات  ۳۶ سال کی عمر میں ہوئی، آپ ﷺ مکہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ میں وفات پائے .

٭نواقض اسلام٭

۱۔۔: اللہ کی عبادت میں شرک کرنا:

اللہ تعالی فرماتا ہے (ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء ومن یشرک با للہ فقد افتری اثما عظیما) یقینا اللہ تعالی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالی کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا (النساء:۸۴)

۲۔۔: اپنے  اور اللہ کے درمیان کسی دوسرے کو واسطہ مان کر اسے پکارنا، اس سے اللہ سے شفاعت کے لئے سوال کرنا، اس پر بھروسہ رکھنا، یہ سب  اجماعا کفر ہے، اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان (اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤگے (یونس:۶۰۱)

۳۔۔: مشرکین کو کافر نہ سمجھنا، یا ان کے کفر میں شک کرنا، یا ان کے مذ ہب کو صحیح سمجھنا یہ سب کفر ہے،  اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے (قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ اذ قالوا لقومھم انا بریئ منکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدا حتی تومنوا باللہ وحدہ) (مسلمانوا) تمہارے لئے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں، ہم تمہارے (عقائدکے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لا ؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لئے بغض وعداوت ظاہر ہو گئی .(الممتحنۃ:۴)

۴۔۔: یہ اعتقاد رکھنا کہ نبی کریم ﷺ کے طریقہ سے بہتر اور مکمل طریقہ کسی اور کا ہے، یا یہ کہ آپ ﷺ کے فیصلہ سے بہتر فیصلہ اور کسی کا ہے، یا دوسروں کے فیصلہ کو آپ ﷺ کے فیصلے پر ترجیح دینا، یہ سب کفر ہے، اور ایمان کو برباد کر دینے والااعتقاد ہے، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ((والذی نفسی بیدہ لو کان موسی بین اظہر کم ثم اتبعتموہ وترکتمونی لضللتم ضلالا بعیدا)) کہ قسم ہے اس ذات باری تعالی کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،کہ اگر موسی (علیہ السلام) تمہارے بیچ ہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرتے تو تم کھلی گمراہی میں ہوتے .

۵۔۔: جس کو لے کر آپ ﷺ آئے ہیں اس سے بغض وعداوت رکھنا،یہ کفر ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے (والذین کفروا فتعسا لھم واضل اعمالھم، ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللہ فاحبط اعمالھم) اور جو لوگ کافر ہو ے انہیں ہلاکی ہو اللہ ان کے اعمال غارت کر دیگا، یہ اس لئے کہ  وہ اللہ کے نازل کردہ چیز سے ناخوش ہوئے پس اللہ تعالی نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیئے (محمد:۸۔۹)

۶۔۔: دین رسول ﷺ کے کسی بھی شیء کا یا ثواب یا عقاب کا مذاق اڑانا کفر ہے  اللہ تعالی نے فرمایا (ولئن سالتھم لیقولن اللہ انما کنا نخوض ونلعب قل ابا اللہ وآیاتہ ورسولہ کنتم تستھزؤون، لا تعتذروا قد کفر تم بعد ایمانکم ان نعف عن طائفۃ منکم نعذب طائفۃ بانھم کانوا مجرمین) اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے، کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں، تم بہانے نہ بناؤ یقینا  تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہو گئے، اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے در گزر بھی کر لیں تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے (التوبۃ: ۵۶۔۶۶)

۷۔۔: جادو کرنا کروانایا جادو سیکھنا یا اس سے راضی ہونا کفر ہے، اللہ تعالی نے فرمایا (یعلمون الناس السحر وما انزل علی الملکین ببا بل ھاروت وماروت وما یعلمان من احد حتی یقولا انما نحن فتنۃ فلا تکفر) وہ لوگو ں کو جادو سکھایا کر تے تھے اور بابل میں ہاروت وماروت دو فرشتوں پر جو اتارا گیا تھا وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے  جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش  ہیں تو کفر نہ کر (البقرہ:۳۰۱)

۸۔۔:  مشرکوں سے دوستی کا اظہار کرنا اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرنا کفر ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے (ومن یتولھم منکم فانہ منہم ان اللہ لا یھدی القوم الظالمین)تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہیں میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالی ہر گز راہ راست نہیں دکھاتا (المائدۃ:۱۵)

۹۔۔: یہ اعتقاد رکھنا کہ بعض لوگوں کو شریعت محمدی سے باہر ہوکر زندگی گذارنے کا اختیار ہے، جس طرح سے  شریعت مو سی میں خضر علیہ الصلاۃ والسلام کے لئے  وسعت دی گئی تھی، یہ کفریہ اعتقاد ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے (وان ھذا صراطی مستقیما  فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ ذلکم وصا کم بہ لعلکم تتقون) اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گے،اس کا تم کو اللہ تعالی نے تاکیدی حکم دیا ہے تا کہ تم پرہیز گاری اختیار کرو(الانعام:۳۵۱)

10۔۔: اللہ کے دین سے اعراض کرنا،نہ اس کو سیکھنا اور نہ اس پر عمل کرنا، یہ کفر ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے (ومن اظلم ممن ذکر بایات ربہ ثم اعرض عنہا،انا من المجرمین منتقمون) اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اللہ تعالی کی آیتوں سے وعظ اور نصیحت کیا گیا پھر بھی اس نے ان سے منہ پھیر لیا (یقین مانو) کہ ہم بھی گنہگاروں سے انتقام لینے والے ہیں .(السجدۃ:۲۲)

DiscoverIslamNp

DiscoverIslamNP is specifically for Islamic education. The best way to provide authentic Islamic education through DiscoverIslamNP is to adapt to the will of Islam. The main goal of this site is to quench the thirst for Islamic knowledge and offer the right solution to various religious Problems.

Leave a Reply